Al-Risala · March 2021 · page 32

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲

کیا کرتے تھے، اور اپنے تفریحی انداز کی وجہ سے کافی پڑھے جاتے تھے۔ میری معلومات کے مطابق ابتدا میں انھوں نے گریز کیا۔ مگر جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو انھوں نے ایک لمبا مضمون لکھا جو 1965 کے آغاز میں ان کے رسالہ تجلی (فروری- مارچ 1965، صفحہ 124-99) میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا: مولا نا وحیدالدین خانصاحب کی تعبیر کی غلطی۔

یہ مضمون واضح طور پر اس کا ثبوت تھا کہ عامر عثمانی صاحب اپنے آپ کو علم کے میدان میں عاجز پا رہے ہیں۔ چنانچہ اس میں اصل نقطہ نظر کی علمی تردید کی کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ مختلف انداز سے اس کا مذاق اُڑایا گیا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’تنقید یا مسخرہ پن‘ یہ مضمون اولاً ماہ نامہ نظام (کانپور) میں دسمبر 1965 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد دوسرے جرائد میں نقل کیا گیا۔ میرے اس مضمون کی اشاعت کے بعد جناب عامر عثمانی مزید دس سال تک زندہ رہے۔ مگر وہ اس موضوع پر بالکل خاموش ہو گئے ۔ پھر انھوں نے کبھی تعبیر کی غلطی کا رد کرنے کی کوشش نہیں کی۔

البتہ اس کے بعد انھوں نے تجلی کا حاصل مطالعہ نمبر نکالا۔ یہ نمبر جولائی۔ اگست 1966 پر مشتمل تھا۔ اس میں انھوں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سمیت متعدد شخصیتوں کی منتخب تحریریں شائع کیں اور ان پر تبصرے لکھے۔ مگر انھوں نے سب سے زیادہ شاندار ذکر راقم الحروف کا کیا۔ اس کتاب کا پہلا مضمون راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ سے متعلق تھا اس کے اعتراف میں انھوں نے اپنے وہ آخری الفاظ صرف کر دئے جو ان کے پاس موجود تھے۔

جناب عامر عثمانی صاحب کا یہ مضمون ’’پچاس فی صداعتراف‘‘ کا ثبوت ہے۔ مگر افسوس کہ دوسروں میں اتنے اعتراف کی بھی جرات نہیں۔

میں جن لوگوں سے اپنی زندگی میں غیر معمولی طور پر متاثر ہوا ان میں سے سے ایک مولانا عبدالباری ندوی (1976-1886) ہیں۔ ان سے نہ صرف میری ملاقاتیں ہوئی ہیں بلکہ ایک مختصر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page