White House is the loneliest place in the world.
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹
مدارجِ تخلیق میں یکسر طور پر نمایاں نہ ہو۔ بدیگر الفاظ میں وہ یکسر طور پر پوشیدہ ہے۔ براہِ راست طورپر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے۔ مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک ممکن ہے۔ یہی واحد وجہ ہے، جس کی بنا پر لوگ شخصیتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو دکھائی نہیں دیتا، اور شخصیتیں ان کو دکھائی دیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شخصیتوں دھاتی ہیں دیتا، اور میں ان کو دھاتی دیتی ہیں۔ مرا انسان کا اصل امتحان یہ ہے وہ کے تقدس کا پردہ پھاڑ کر خدا کو دیکھے۔
مسلم اہل علم نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تقابل پر جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں مشترک طور پر چند غلطیاں پائی جاتی ہیں :
(1) انھوں نے مغربی سماج کے چند واقعات کو لے کر اسے generalize کر دیا ہے۔ اس طرح انھوں نے خاص کو عام بنانے کی غلطی کی ہے۔ اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر مسلمان خوش ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں یہ تسکین ملتی ہے کہ اُن کے دشمن‘‘ کا سماج بہت بُرا سماج ہے ۔ مگر ان تحریروں سے خود مغرب کے لوگ کوئی اچھا اثر نہیں لے سکتے۔ (2) دوسری چیز یہ کہ ان تحریروں میں آڈیالوجی کا تقابل پریکٹس (عمل) سے کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام سے تو نظریات واقدار لی گئی ہیں اور جدید سماج سے ان کا عمل ۔ یہ تقابل درست نہیں۔ تقابل ہمیشہ دو برابر کی چیزوں میں ہوتا ہے۔ یعنی تقابل یا تو آئڈیالوجی سے آئڈیالوجی کا ہونا چاہیے یا پریکٹس سے پریکٹس کا۔
اس قسم کا غیر علمی لٹریچر دعوت کے لیے کبھی مفید نہیں ہوسکتا۔ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کر سکتا ہے۔ مگر وہ دعوتِ عام کے لیے کار آمد نہیں۔
قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہلِ ایمان کی زندگی کو۔ (پیڑ سے سبق دینا ہے۔ مثلاً سلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ دیکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں یہ بات ایک ایسی راہیں برتیں اس واسطے یہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues