Al-Risala · March 2021 · page 40

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

جنات کو ان کے لیے مسخر کر دیا (الانبیاء، 81-82)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کر دی۔ انھوں نے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2: 102)۔

حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طور پر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اور رحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی ۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیروکار رافت، رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اعراض دنیا برائے اخلاق ودعوت کو انھوں نے ترک دنیا بمعنی رہبانیت بنا دیا (الحدید، 57: 27)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کر دیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور ایک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنے میں مبتلا ہوگی۔ جو چیز مشرکین اور کافروں کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4403)۔ یعنی میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض، بعض کی گردن مارنے لگے۔ اس طرح کی کثیر حدیثیں ہیں جن میں مسلمانوں کو مطلق طور پر جنگ سے منع کیا گیا ہے۔ مگر خلیفہ سوم کے زمانہ ہی میں مسلمان اس فتنے میں پڑ گئے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین انتباہ کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ جہاد ہے۔ مگر یہ جہاد نہیں بلکہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page