Al-Risala · March 2021 · page 43

White House is the loneliest place in the world.

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۴۳

حاصل کرنے کے خاطر چھوٹے فائدوں کو نظر انداز کردے۔ جو شخص چھوٹی چھوٹی چیزوں کا نقصان برداشت نہ کرے، وہ اپنی زندگی میں کسی بڑی چیز کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ ایک عربی میگزین میں یہ عبارت نظر سے گزری: دخل اعرابی علی بخیل فوجده يأكل خبزاً وعسلاً فأخفى الخبز في حجره ولم يدعه لتناول الطعام معه، فما كان من الاعرابي الا ان تقدم الى اناء العسل وأخذ يأكل بلا خبز - فقال له البخيل : ان العسل وحده يحرق القلب فأجابه الأعرابي : نعم، ولكن قلبك لا قلبی۔ یعنی ایک دیہاتی آدمی ایک بخیل کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ بخیل روٹی اور شہد کھارہا ہے۔ بخیل نے روٹی کو اپنی گود میں چھپا لیا اور دیہاتی کے لیے نہیں چھوڑا کہ وہ اس کے ساتھ کھاسکے۔ دیہاتی نے یہ کیا کہ وہ شہد کے برتن کی طرف بڑھا اور اس کو روٹی کے بغیر کھانے لگا۔ یہ دیکھ کر بخیل نے اس سے کہا کہ خالی شہد کھانا دل کو جلاتا ہے۔ دیہاتی نے جواب دیا، ہاں وہ جلاتا ہے، مگر وہ تمھارے دل کو جلاتا ہے، نہ کہ میرے دل کو۔ ممکن ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو بلکہ محض لطیفہ ہو، قدیم زمانہ تمثیلات کا زمانہ تھا۔ لوگ اپنی باتوں کو کہانی کے روپ میں بیان کیا کرتے تھے۔ گمان غالب یہ ہے کہ کسی شخص نے ”بخیل‘‘ کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے یہ قصہ گھڑا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلا دیا۔

اخلاقی درس کی حد تک یہ بناوٹی قصے درست تھے۔ مگر اس کے بعد اپنے بڑوں کی بڑائی اور بزرگی ظاہر کرنے کے لیے طلسماتی قصے کہانیاں گھڑے جانے لگے۔ یہاں آکر یہ طریقہ سراسر غلط ہو گیا۔ کیوں کہ ان جھوٹے قصوں نے یہ تصور دیا کہ بزرگ ایسے ہوتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان ایسا ہوتا ہی نہیں، اور نہ کوئی بزرگ کسی قسم کی بزرگی اور کرامات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مگر فرضی تصویر لوگوں کے لیے حقیقی تصویر بن گئی۔

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page