Al-Risala · March 2021 · page 48

ایک داعی کی یادیں

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۴۸

ایک داعی کی یادیں

مسٹر اعجاز احمد (پیدائش 1963) کا 29 دسمبر 2020 کو بنگلور کے ایک ہاسپٹل میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے 1985 میں آئی آئی ٹی کھرگپور (IIT Kharagpur) سے گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد ONGC سے انھوں نے اپنے کیریئر کی شروعات کی، اور 1995 میں ان کو ایک فارن کمپنی میں جاب مل گئی۔ چوں کہ وہ سمندر آئل رگ (Sea Oil Rig) پر جاب کرتے تھے اس لیے ان کی جاب کی نوعیت کچھ اس طرح ہوتی کہ وہ مکمل ایک ماہ جاب پر ہوتے اور ایک ماہ گھر پر ہوتے۔

مسٹر اعجاز انتہائی محنتی اور ایک آنسٹ انسان تھے۔ ان کی زندگی کا فارمولا تھا سادہ زندگی، اونچی سوچ۔ انھوں نے نہ تعلیمی زمانے میں کوئی چھٹی لی، اور نہ ہی جاب کے زمانے میں کبھی کوئی چھٹی لی۔ یہاں تک کہ ڈیوٹی کے اوقات میں وہ اپنی فیملی سے فون پر بھی بات نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں غلطی سے ڈبل سیلری آگئی تو انھوں نے اس کو واپس کیا۔ اگرچہ اس کو لوٹانے کا جو پراسس (process) تھا وہ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ تھا۔ یہاں تک کہ خود کمپنی کے ایڈمنسٹر بیٹو آفیسرس (Administrative Officers) نے بھی انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ خاموش ہو جائیں مگر انھوں نے ان کے اس مشورہ کو رد کر دیا اور اس وقت تک چپ نہ بیٹھے جب تک کہ اسے لوٹا نہیں دیا۔

سی پی ایس مشن سے ان کا تعلق ان کی اہلیہ مز فاطمہ سارہ (پیدائش 1967) کے ذریعے ہوا۔ سائنٹفک ذہن ہونے کی وجہ سے وہ سی پی ایس کے لٹریچر سے بہت زیادہ متاثر ہوئے، اور اسلام کی پیس فل آئیڈیالوجی کے معاملہ میں انھوں نے سی پی ایس مشن کا بھر پور ساتھ دیا۔ وہ اگرچہ 2000 ہی سے اس مشن کے ساتھ تھے۔ مگر 2005 میں راقم الحروف نے بنگلور کا سفر کیا، جس کی تفصیل ماہنامہ الرسالہ مارچ 2006 میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد سے وہ مشن کو اور زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page