ایک داعی کی یادیں
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۵۰
ایڈیٹنگ کر رہے تھے۔ لیکن وہ اس کو مکمل نہ کر سکے۔
بنگلور ٹیم کے دوسرے ساتھی مسٹر ابرار مدثر (پیدائش 1985) نے بتایا کہ اعجاز بھائی کی وفات کے بعد میں نے ان کی اہلیہ سارہ آپا کا رویہ دیکھا تو مجھے صحابہ کی زندگی یاد آ گئی، جو مصیبت کے موقع پر صبر سے کام لیتے تھے۔ سارہ آپا نے پوری طرح اللہ کی سچی بندی ہونے کا حق ادا کیا۔ صبر اور حوصلہ کے ساتھ انھوں نے ہم سب کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ غم نہ کریں، وہ کسی نامعلوم (unknown) جگہ نہیں گئے ہیں، وہ اللہ کے کنگڈم (kingdom) میں گئے ہیں، اللہ نے انھیں اپنے پاس بلا لیا ہے، جو اس دنیا سے بہت بہتر ہے۔ اس دنیا کے اندر ان کے امتحان کا وقت اتنا ہی تھا۔ اس لیے ہمیں خدا کے کریشن پلان پر راضی ہونا ہے، اور صبر کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ انھوں نے دعوتی مشن کو جو تعاون دیا ہے، اس کو آگے بڑھانا اب ہماری ذمے داری ہے۔ وہ دیر تک معرفت اور ایمان کی باتیں کرتی رہیں، جس سے خود ہمارے ایمان میں تازگی پیدا ہوئی۔
اُس وقت سارہ آپا نے مزید کہا کہ میں اور میرے شوہر مولانا (راقم الحروف) کے ساتھ ایک مجلس میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک کا پہلے انتقال ہو جائے تو دوسرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے رفیق حیات کے حصے کا بھی دعوتی کام کرے۔ اس طرح وہ اپنے اور اپنے رفیق حیات کے گریڈ کو خدا کی نظر میں بڑھائے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے حصہ کا دعوتی کام کرنے کے ساتھ شوہر کے حصے کا بھی دعوتی کام کروں گی تا کہ میں اپنے ساتھ اپنے شوہر کے گریڈ کو بڑھا سکوں۔
مسٹر اعجاز کی وفات کی خبر سنی تو مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18)۔ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خدا کے منصوبہ تخلیق کو یاد رکھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ اللہ مرحوم کی لغزشوں کو معاف کرے، اور اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے (آمین)۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues