مراۃ پرانعام ہے اور
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۵۴
سجده اعتراف اک سال یہ آ گیا اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا تو فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور وہ منکروں میں سے ہو گیا۔ یہاں سجدہ کا مطلب سجدہ اعتراف ہے، یعنی حقیقت واقع کو قبول کرنا۔ ایک طرف فرشتے ہیں، جو انسان کو اعتراف کا سبق دے رہے ہیں، اور دوسری طرف ابلیس ہے، جو انسان کو أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ (میں اس سے بہتر ہوں) کی سوچ کے ذریعے عدم اعتراف کا سبق دے رہا ہے۔ آدم کے واقعے میں سجدہ دراصل ایک حقیقت کا اعتراف (acknowledgement) تھا، یعنی اب ایک نئی مخلوق انسان کو، منصوبہ تخلیق کے مطابق، سینٹرل حیثیت حاصل ہوگی۔ فرشتہ اور ابلیس دونوں کو اسی حقیقت کے اعتراف کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کو فرشتوں نے مان لیا، لیکن ابلیس نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس میں انسان کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اعتراف کی صفت کو اپنائے۔ اس دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہر انسان کبھی نہ کبھی ایک " آدم " سے دوچار ہوتا ہے۔ اس وقت خدا حال کی زبان میں ہم سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس " آدم " کا اعتراف کرو۔ دوسرے الفاظ میں، آئیڈیل کو ترک کرو اور پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کرو۔ اب جو فرشتوں کا طریقہ اختیار کرے، وہ خدا کا سچا بندہ ہے، وہ صحیح روش والا انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو ابلیس کا طریقہ اختیار کرے، اور تواضع کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ خدا کا سچا بندہ نہیں ہے، وہ درست راستے سے دور انسان ہے۔ اعتراف یا بے اعترافی، دونوں کا انجام یکساں نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں انسان سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے زندگی میں حقیقت واقع کا اعتراف کیا یا تم نے بے اعترافی کی زندگی گزاری۔ اعتراف پر انعام ہے اور یشت واقعہ کا اعتراف لیا گیا | اے بے اعتراف کی رندی نزاری۔
بے اعترافی پر شدید پکڑ۔
مراۃ پرانعام ہے اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues