Al-Risala · April 2021 · page 7

صدیقی اسپرٹ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۷

صدیقی اسپرٹ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 11 ہجری میں مدینہ میں ابوبکر صدیق کی خلافت کا واقعہ ہے۔ اس وقت عرب کے کچھ قبائل نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا۔ یہ سادہ طور پر منع زکاۃ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اسٹیٹ سے بغاوتا کا کیس تھا۔ اس لیے خلیفۂ اول ابو بکر صدیق نے بہت شدید انداز میں اس کیس کو ہیڈل کیا۔ چنانچہ مدینہ میں اس تعلق سے مشورہ ہوا۔ خلیفہ اول ابو بکر نے اس موقع پر ایک فیصلہ کن تقریر کی، اس میں انھوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: اِنَّهُ قَدْ اِنْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنَا حَيٌّ؟ رواه رزين (مشکاۃ المصابیح، حدیث نمبر 6034)۔ یعنی وحی بند ہو چکی ہے، اور دین مکمل ہو گیا ہے، کیا اس میں کمی کی جائے گی، حالا ں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ جملہ کوئی سادہ جملہ نہیں تھا، بلکہ وہ ایک اسپرٹ کا اظہار تھا، جو ہر سچے مومن کے اندر ہونا چاہیے۔ وہ یہ کہ کبھی ایسا موقع آتا ہے کہ دین کے معاملے میں کرائسس کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس وقت ایک مرد مومن کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے نازک موقع پر مرد مومن کو اس کی عارفانہ اسپرٹ اس پر ابھارے گی کہ وہ پورے عزم کے ساتھ یہ جملہ بولے ــــ کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں موجود ہوں۔ یہ قول اگر کسی مرد مومن کے دل کی گہرائی سے نکلے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ فضا بدل جاتی ہے، اور اہل اسلام کی گاڑی دوبارہ پٹری پر چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ لوگوں کے لیے اپنی جان، اپنا خاندان، اپنی جائیداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔ انھیں چیزوں کو ایک انسان سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتا ہے اور اپنا سب کچھ اس کے لیے نثار کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جس کے اندر ایمان اور معرفت کی اسپرٹ پیدا ہو جائے اس کی زندگی ایمان کی بنیاد پر قائم ہو جاتی ہے۔ اللہ کا خوف و محبت، اللہ کی یاد، اللہ کی نعمتوں کا شکر، اللہ کے لیے حوالگی کا جذبہ، وغیرہ اس کے اندر اتنا بڑھا ہوا ہو کہ ہر دوسری چیز اس کو کمتر لگے۔ یہی صدیقی اسپرٹ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page