Al-Risala · April 2021 · page 8

برتر اخلاق

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۸

برتر اخلاق

اعلیٰ اخلاق وہ ہے جو برتر اخلاق ہو۔ یعنی ہر حال میں اچھے اخلاق پر قائم رہنا، خواہ دوسروں کی طرف سے برے اخلاق کا تجربہ پیش آرہا ہو۔ اعلیٰ اخلاق دوسروں کے رد عمل کی بنیاد پر نہیں بنتا، بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولی معیاروں کے تحت بنتا ہے۔ اسلام میں اخلاق ایک عبادت ہے، وہ کوئی جوابی انسانی رویہ نہیں۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آتی ہے: لَا تَكُوْنُوْا إِمَّعَةً، تَقُوْلُوْنَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007)۔ یعنی تم لوگ اِمَّعَةً نہ بنو۔ یعنی یہ طرز عمل کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔ اور اگر وہ ہمارے ساتھ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ برا سلوک کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔

اسلام میں عبادت کا ریوارڈ کیفیات کے اضافہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی دوسروں کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ اچھے سلوک پر قائم رہے تو اس کا ریوارڈ بھی بڑھ جائے گا۔ کیوں کہ وہ جذبات کی قربانی کی سطح پر جا کر حسنِ اخلاق کے اصول پر قائم رہا۔ جذبات کی قربانی دوسرے الفاظ میں ایگو کی قربانی ہے، اور ایگو کی قربانی بہت بڑی قربانی ہے۔

معتدل حالات میں حسنِ اخلاق اگر سادہ طور پر سماجی آداب (manners) کی حیثیت رکھتا ہے تو غیر معتدل حالات میں حسنِ اخلاق اعلیٰ درجہ کی عبادت بن جاتا ہے۔ معتدل حالات میں جو خوش اخلاقی برتی جاتی ہے، وہ انسانی شخصیت کے ارتقا میں کچھ مددگار نہیں ہوتی۔ لیکن جب ایک آدمی غیر معتدل حالات میں دوسروں کے برے رویہ سے غیر متاثر رہ کر حسنِ اخلاق پر قائم رہے تو اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page