Al-Risala · April 2021 · page 9

برتر اخلاق

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۹

کی یہ روش اس کی شخصیت کے ارتقا کا ذریعہ بن جائے گی۔

حسن اخلاق کے سلسلے میں بائبل (متی، 39:22) میں ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھو (Love your neighbour as yourself)۔ ایک انسان کے لیے اخلاق کا سب سے بڑا موقع اس کے پڑوسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ پڑوسی کسی انسان کا سب سے قریبی ساتھی ہے۔ گھر کے افراد کے بعد کسی انسان کا سابقہ سب سے پہلے جن لوگوں سے پیش آتا ہے، وہ اس کے پڑوسی ہیں۔ پڑوسی کو خوش رکھنا، اس سے اچھا تعلق قائم کرنا، سچے انسان کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ پڑوسی خواہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ اپنی قوم کا ہو یا دوسری قوم کا، وہ ہر حال میں قابل لحاظ ہے۔ ہر حال میں اس کا وہ حق ادا کیا جائے گا جو انسانیت کا تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قال: الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6016)۔ یعنی خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔ پوچھا گیا: کون اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا: جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔

اس حدیث کے مطابق، کوئی مسلمان اگر اپنے پڑوسی کو ستائے۔ وہ اس طرح رہے کہ اس کے پڑوسی کو اس سے تکلیف پہنچے تو ایسے مسلمان کا ایمان و اسلام ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ پڑوسی کے سلسلہ میں جو خدائی احکام ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سچے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی یک طرفہ طور پر رعایت کرے۔ وہ پڑوسی کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ حسن سلوک کی کوشش کرے۔ کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے دینی جذبہ کی پہلی کسوٹی اس کا پڑوسی ہے۔ پڑوسی اس بات کی پہچان ہے کہ آدمی کے اندر انسانی جذبہ ہے یا نہیں۔

کسی آدمی کا پڑوسی اس سے خوش ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ آدمی صحیح آدمی ہے، اور اگر اس سے اس کا پڑوسی ناخوش ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ آدمی صحیح نہیں۔ اچھا پڑوسی بننا خود آدمی کے اچھے انسان ہونے کا ثبوت ہے۔ ایسے ہی انسان کو خدا اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page