هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷
اور مسلمانوں نے وہاں باقاعدہ مسجد تعمیر کرلی۔
ہند و جب کہیں مندر بنانے والے ہوتے ہیں تو وہاں ان کا ایک بھگوان پر کٹ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی اپنی مسجد کے حق میں ایک پتھر کو پرکٹ کرلیا۔ مذکورہ حالات میں اس تدبیر کو درست سمجھتا ہوں۔ مگر مسلمان جس تدبیر کو خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی تدبیر اگر دوسرے لوگ کریں تو انھیں اس پر شور وغل نہیں کرنا چاہیے۔
1981 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہنگامے ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اندر پولیس بلائی گئی۔ اس وقت ہندوستان کی مسلم قیادت نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ 29 اگست 1981 کو ایک معروف مسلم ادارے کی جانب سے مسلم یونیورسٹی کنونشن ہوا۔ یہ کنونشن بچوں کا گھر دہلی میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ادارے کی ترجمان میگزین نے لکھا: ”یونیورسٹی کے ذمہ داران یونیورسٹی کے مسائل کو جیل اور گولی اور رسوا کن بیانات سے کیوں طے کرنا چاہتے ہیں۔ معقولیت اور گفتگو کا طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ ہمارے ادارے نے مسلم یونیورسٹی کنونشن اس لیے بلایا ہے تا کہ یونیورسٹی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے اور یونیورسٹی کی فضا خوش گوار ہو سکے“ (28 اگست، 1981)۔ جب دوسروں کا احتساب کرنا ہو تو تمام مسلم لیڈر یہی زبان بولتے ہیں، مگر خود اپنا احتساب کرنا ہو تو وہ اس کے بالکل خلاف عمل کرتے ہیں۔ آج ہر مسلم ادارے کا یہ حال ہے کہ اس کو جس سے اختلاف ہو جائے اس کے بارے میں بقدراستطاعت وہ ”گولی“ اور ”رسوا کن بیانات“ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مگر دوسروں سے اپنے لیے وہ اس سے مختلف رویے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس قسم کے مطالبات بلاشبہ جھوٹے مطالبات ہیں، اور جھوٹے مطالبات کی موجودہ دنیا میں کوئی قیمت نہیں۔ ٹھیک سات سال پہلے 6 فروری 1979 کو میں نے حسب ذیل سطریں لکھی تھیں: مکہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues