Al-Risala · January 2021 · page 16

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶

زمین پر پائے جاتے تھے۔ اس قیاس پر ماہرین کو اتنا یقین تھا کہ اس کا ایک مفروضہ نام پلی ساسور (Pleisosaurs) رکھ دیا گیا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ مفروضہ بالکل غلط تھا۔ یہ دھبے چٹانوں کے تھے، نہ کہ زندہ جانوروں کے۔

انسانی علم میں ہمیشہ اس قسم کی غلطیوں کا انکشاف ہوتا رہا ہے، پہلے بھی اور آج بھی۔ مگر قرآن میں آج تک اس قسم کی کسی غلطی کا انکشاف نہ ہوسکا۔ حالاں کہ قرآن ہر قسم کے موضوعات کو ٹچ (touch) کرتا ہے۔ یہی ایک واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ کوئی انسانی کلام نہیں۔ اگروہ انسانی کلام ہوتا تو یقینا اس کے اندر بھی وہی کمیاں پائی جاتیں جو تمام انسانوں کے کلام میں بلا استثنا پائی جاتی رہی ہیں۔

ایس ایم عارف ندوی نے ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ قرول باغ (دہلی) میں حکیم اجمل خاں نے طبیہ کالج قائم کیا۔ اس کا بہت بڑا کیمپس تھا۔ مگر انھوں نے اس کے اندر مسجد نہیں بنائی۔ تقسیم ملک کے بعد اس کا بڑا حصہ شر نار تھیوں کی قیام گاہ بن گیا۔ 1970 کے بعد یہاں کے مسلمانوں کو خیال ہوا کہ کالج کے کیمپس میں ایک مسجد بنائیں ۔ انھوں نے بنانا شروع کیا۔ مگر جب دیواریں کھڑی ہو گئیں تو مقامی غیر مسلموں نے اعتراض کیا، اور کہا کہ یہاں جب پہلے مسجد نہیں بنائی گئی تو اب آپ کو یہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک مسلمان نے اس کے بعد ایک تدبیر کی۔ اس نے خاموشی سے ایک پتھر تیار کرایا۔ اس پر کندہ کر کے لکھا ہوا تھا:

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

اس نے اس پتھر کو مسجد کے پاس زمین میں گاڑ دیا۔ اس کے بعد ایک روز زور شور کے ساتھ اعلان کیا کہ یہاں ایک پتھر گڑا ہوا ملا ہے۔ ہندو جمع ہوئے۔ انھوں نے دیکھا کہ واقعی زمین سے ایک پتھر برآمد ہوا ہے، اور اس پر مذکورہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہندو خاموش ہوگئے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page