ہاجرہ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴
ہاجرہ کلچر
فرنچ رائٹر فرانسودی لامارٹین (1790-1869، Alphonse de Lamartine) کا مشہور قول ہے کہ ہر بڑے آغاز سے پہلے ایک عورت کا رول ہے :
There is a woman at the beginning of all great things تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ قول سب سے زیادہ حضرت ہاجرہ کے اوپر صادق آتا ہے۔ حضرت ہاجرہ سے پہلے دنیا میں نیچرورشپ کا دور تھا۔ حضرت ہاجرہ کے ذریعے انسانی تاریخ میں ایک پر اسس جاری کیا گیا جس کا نقطہ انتہا (culmination) پیغمبر اسلام اور اصحاب رسول کا ظہور تھا، جن کے ذریعے دنیا میں بتدریج سائنٹفک تھنکنگ وجود میں آئی۔ اس کا اعتراف فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کر دیا گیا : (Islam) changed the face of the Globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, A History of Europe, London, 1958, p 46)
اصل یہ ہے کہ آج ہم جن سائنسی دریافتوں کو استعمال کر رہے ہیں، وہ نیچر (فطرت) میں ہمیشہ سے موجود تھی۔ مگر اس کو ایکچو لائز (actualize) کرنے کے لیے ضروری تھا کہ نیچر میں چھپے ہوئے فطرت کے خزانوں کو بذریعہ تحقیق (investigation) دریافت کیا جائے۔ قدیم زمانے میں نیچر ورشپ کے مزاج کی بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ نیچر کی تحقیق کرے، اور نیچر میں چھپے ہوئے خزانے کو دریافت کر کے ٹکنالوجی اور صنعت کے دور کو دنیا میں لائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس چیز کو پرستش کا موضوع (object of worship) بنائے ہوئے ہوں، اس کو آپ تحقیق کا موضوع (object of investigation) نہیں بنا سکتے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر مقدس چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کی جائے تو اس پر بلا نازل ہوگی۔
خالق نے دنیا کے اندر یہ طریقہ رکھا تھا کہ اس نے کچھ چیزوں کو زمین کے اوپر براہ راست
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues