ہاجرہ کلچر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵
طور پر پیدا کیا۔ مثلاً حیوانی طاقت۔ اسی کے ساتھ کچھ اور چیزیں نیچر کے اندر چھپا کر رکھ دیں، مثلاً بجلی اور کمیونی کیشن اور کمپیوٹر، وغیرہ۔ برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1975-1889) نے کہا ہے کہ نیچرورشپ کی بنا پر انسان نے کبھی نیچر کو تحقیق کا موضوع بنانے کی طرف توجہ نہیں دی۔ قدیم زمانے میں نیچر ورشپ اتنی عام تھی کہ پیدا ہونے والے لوگ نیچر ورشپ کے کلچر میں کنڈیشنڈ ہو جاتے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ ایک نسل ایسی پیدا کی جائے، جو نیچر ورشپ کی کنڈیشننگ سے بچی ہوئی ہو۔ ایک نئی قوم جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔ اس مقصد کے لیے پیغمبر ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ کو عرب کے صحرا (desert) میں آباد کیا۔ اس طرح ایک خاتون ہاجرہ کی قربانی سے ایک نئی نسل پیدا ہوئی، جو نیچر ورشپ کی کنڈیشننگ سے بچی ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں اسی نسل میں رسول اور اصحاب رسول پیدا ہوئے۔ یہ اہل توحید تھے، وہ نیچر ورشپ کرنے والے نہیں تھے۔ پھر ان کو دنیا میں غالب قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ نیچر کو موضوع تحقیق بنایا گیا، جو آب تک انسان کے لیے صرف موضوع پرستش بنی ہوئی تھی۔ یہ نیچر ورشپ اس وقت پوری طرح مغلوب ہوگئی، جب کہ سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ نیچر عامل نہیں ہے، بلکہ وہ معمول ہے۔ یعنی نیچر کسی بڑی طاقت کے کنٹرول میں ہے، اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اس تحقیق نے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ابدی طور پر ہٹا دیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب : اسلام دورِ جدید کا خالق) لیکن دوبارہ ایسا ہوا ہے کہ ٹکنالوجی کی دریافت کے نتیجے میں مواقع بہت زیادہ کھل گئے ہیں۔ مادی فائدے کے اعتبار سے امکانات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ ہر آدمی تک اس کی رسائی ہوگئی ہے۔ اب ہر آدمی بڑی بڑی ترقی کا خواب دیکھتا ہے، اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس فتنے نے ہر آدمی کو مادہ پرست بنا دیا ہے۔ موجودہ دور میں خواتین کو ایک نیا رول ادا کرنا ہے۔ وہ یہ کہ نیچرورشپ سے آزاد ہو کر انسان مادہ پرستی کی طرف چلا گیا، اب وقت آگیا ہے کہ خواتین ایک ایسی نسل تیار کریں، جو دنیا کو مادہ پرستی سے نکال کر خدا پرستی کی طرف لے جائے۔ یہ دوسرا دور عملاً شروع ہو چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خواتین اس کو تکمیل تک پہنچائیں گی، اور دنیا کو مادہ پرستی سے نکال کر خدا پرستی کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues