Al-Risala · April 2021 · page 17

حقیقتِ انسانی کی دریافت

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷

حقیقتِ انسانی کی دریافت

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک ضعیف بچہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ضعف انسان کی اصل حالت کو بتاتا ہے، یعنی انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے عاجز مطلق (all-powerless) ہے۔ لیکن اس دور ضعف میں انسان کو زندہ شعور حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے بچپن کے دور میں انسان اپنی حالت ضعف (powerlessness) کو شعوری طور پر دریافت نہیں کر پاتا۔ اس کے بعد انسان کے اوپر جوانی کا دور آتا ہے۔ جوانی کے دور میں انسان کو شعور کی قوت حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وقت وہ اپنے شعور کو استعمال نہیں کر پاتا کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کر سکے۔ اس لیے زندہ شعور کے باوجود وہ حالتِ ضعف سے بے خبر رہتا ہے۔ یہ صرف بڑھاپے کا دور ہے، جب کہ انسان اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ حالت ضعف کا ادراک کر سکے۔

بڑھاپے کی عمر کیا ہے۔ ایک لفظ میں بڑھاپا عجز (powerlessness) کا تجربہ ہے۔ بڑھاپا کئی پہلوؤں سے زندگی کا ایک سخت ترین مرحلہ ہے۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ آدمی طبعی زندگی کے آخری ایام میں ہوتا ہے، اور موت سے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ، تیزی کے ساتھ جسمانی قوت کا جاتے رہنا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی بڑھاپے کا دور انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی دور ہے۔ یہ دور کسی انسان کے لیے اس کی اصل حقیقت کا جبری ادراک ہے۔ بڑھاپے سے پہلے انسان اپنے پہلے دو ادوار (بچپن اور جوانی) کو پانے کے باوجود غفلت کی وجہ سے کھو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے دور طفولیت (childhood) یا اپنے دور جوانی میں اپنی حقیقت واقعی کا ادراک کر سکے۔

انسان کا خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو جانے۔ وہ اسی ادراک کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے ۔ لیکن ہر انسان یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ اپنے بچپن اور اپنی جوانی کے دور میں اپنی حقیقت واقعی کو دریافت کرنے سے بے خبر رہتا ہے۔ اس لیے خالق کی یہ منشا ہوتی ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page