حقیقتِ انسانی کی دریافت
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸
بڑھاپے کے دور میں انسان کو عجز کا احساس دلائے ، یعنی یہ کہ وہ اللہ رب العالمین کے مقابلے میں ایک عاجز مخلوق ہے ۔ اس کے لیے اس زمین پر صحیح روش صرف یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو جانے، اور احساس عجز کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ بوڑھے انسانوں کا گویا یہ مشن ہے کہ وہ غیر بوڑھوں کو اس حقیقت انسانی سے باخبر کرے۔
اللہ رب العالمین کی دریافت کے بعد انسان کے لیے سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کرے ۔ حقیقت انسانی کی دریافت اپنی عجز کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ وہی انسان اپنی حقیقت کو دریافت کرتا ہے، جو اپنے عجز کو دریافت کر سکے۔ قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں، جن کی منشا یہ ہے کہ انسان کو حقیقت کی دریافت کرائی جائے (الفتح، 48:11)۔ یہ حقیقت کہ انسان عاجز مطلق ہے، اور خداوند رب العالمین قادر مطلق (all-powerful )۔ اسی حقیقت کا شعوری ادراک معرفت (realization) کی اصل ہے۔
معرفت کی اصل حقیقت عجز ہے۔ کوئی انسان جب خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے تو وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ انسان خدا کے مقابلے میں عاجز مطلق ہے۔ اس وقت وہ قدرتِ خداوندی کے مقابلے میں عجزِ انسانی کی دوسری حد (extent) بناتا ہے۔ یہی دریافت معرفت کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے۔ عبدیت کی اسی دریافت پر کسی کے لیے جنت کا تحقق ہوتا ہے۔ جو انسان اس دریافت سے محروم رہ جائے، اس کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ جنت سے بھی محروم رہ جائے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ انسان بچپن اور جوانی کے ابتدائی ادوار سے گزر کر بڑھاپے کی عمر کو پہنچے ۔ خالق نے مقدر کیا ہے کہ جو لوگ بڑھاپے کے دور تک پہنچیں، وہ جاننے والے کی حیثیت سے ان لوگوں کے معلم بن جائیں، جو زندگی کے اس آخری دور تک ابھی نہیں پہنچے ۔ وہ ان لوگوں کو باخبر کریں، جو اس حقیقت کو جاننے سے محروم رہے۔ یہ تیسرے دور تک پہنچنے والے لوگ گویا انسانیت کے معلم ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو اس حقیقت سے باخبر کریں، جو زندگی کے اس آخری دور تک نہیں پہنچ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues