Al-Risala · April 2021 · page 26

فیمینزم اور دعوت

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶

فیمینزم اور دعوت

قدیم زمانے سے عورتوں کے تعلق سے یہ رواج تھا کہ ان کو دبا کر رکھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں، انیسویں صدی سے حقوق نسواں کی تحریک شروع ہوئی، جس کو فیمینزم(feminism) کا نام دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو سماجی مساوات اور قانونی تحفظ فراہم کرنا۔ اس میں مساوات، حق میراث، آزادی رائے، خود کفیلی، آزاد خیالی، گھریلو تشدد سے تحفظ وغیرہ شامل ہیں۔ حقوق نسواں کی تحریک ابتدا میں محدود مطالبات کے لیے چلی تھی لیکن بالآخر وہ خواتین کے عمومی آزادی کی تحریک بن گئی۔ اب جو آزادی نسواں کا دور آیا تو عورتوں کو لگا کہ ہمارے لیے بھی پوری آزادی کے ساتھ کام کا موقع پیدا ہوا ہے۔ اس سے ایک ماحول بنا۔ اس ماحول کو عام طور پر مسلمانوں نے پسندیدگی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ حالاں کہ اس تحریک میں بظاہر نقصان ہے تو اس میں فائدے کا پہلو بھی موجود ہے۔ آزادی نسواں کے اس ماحول سے ہماری ٹیم کے لوگ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے دعوتی مشن کو اس سے فائدہ مل رہا ہے۔ مثلاً دہلی میں ایک پروگرام میں ہماری ٹیم شرکت کرنے گئی، اور ساتھ میں ترجمہ قرآن بھی لے گئی تا کہ وہ وہاں اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کرے ۔ تاکہ لوگ براہ راست خدا کے پیغام کو پڑھیں۔ اس پروگرام میں انڈیا کے ایک سینٹرل منسٹر بھی آئے ہوئے تھے۔ جب وہ باہر نکلے تو اس کے اردگرد بہت بھیڑ اکٹھی ہو گئی۔ اس موقع پر ہماری ٹیم کے لوگوں کے لیے ان کو قرآن کا ترجمہ دینے کی بظاہر کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس وقت ایک خاتون، مس سعدیہ خان دوڑ کر ان کے پاس گئیں، اور زور سے آواز لگایا، سر! یہ سن کرو وہ منسٹر جواب کار میں بیٹھنے جا رہے تھے، ایک خاتون کی آواز سن کو رک گئے، اور شکریہ کے ساتھ ان سے قرآن کا ترجمہ لیا، اور کار میں سوار ہو کر چلے گئے۔ یہ دعوتی موقع صرف ایک خاتون کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ جدید دور میں ایک نارم (norm) بنا ہے، یعنی لیڈیز فرسٹ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرے تو اس کو غیر مہذب سمجھا جاتا ہے۔ اسی نارم (norm) کے تحت وہ منسٹر رک گیا، اور ایک خاتون سے ترجمہ قرآن لیا، جس صنف

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page