فیمینزم اور دعوت
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷
کو قدیم زمانے میں بے حقیقت سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں یہ مانا جاتا ہے کہ عورتوں کو ایمپاور کرنا کسی بھی ملک کے تمام گوشوں کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے:
Women’s empowerment is the most crucial point to be noted for the overall development of a country. اسی طرح ایک خاتون کا واقعہ ہے، جب وہ شادی کے بعد اپنے سسرال گئیں تو ان کو وہاں بہت ستایا گیا۔ اس سے ان کو اپنے بارے میں یہ تصور پیدا ہو گیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتیں ۔ میں نے ایک مرتبہ ان سے ملاقات کی، اور ان کو یہ سمجھایا کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کر سکتی ہیں۔ دھیرے دھیرے ان کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ وہ دعوت کا کام کر سکتی ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سی پی ایس کی لیڈیز کے ساتھ مل کر دعوتی پلیٹ فارم قائم کیا۔ اس گروپ میں تمام دنیا کی سی پی ایس لیڈیز موجود ہیں، وہ دعوتی کام کو نئے انداز میں اور بہت ہی منظم طریقے سے کر رہی ہیں۔
ایک اور خاتون اپنا تاثر ان الفاظ میں لکھتی ہیں : مجھے ہر بار یہ ریلیز ہوتا ہے کہ میں نے اس (سی پی ایس لیڈیز) گروپ کو جوائن کر کے اپنے اوپر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں بہت زیادہ اسٹریس میں تھی، اور سائنالوجسٹ سے کنسلط کرنا چاہتی تھی، مگر یہ گروپ میرے لیے اللہ کی طرف سے ایک رہنمائی ہے۔ اس سے میں بہت کچھ سیکھ رہی ہوں، میرا اسٹریس بھی ختم ہو گیا ہے، اور امید کرتی ہوں کہ میری پرسنالٹی نکھرے گی، ان شاء اللہ (مہر راضیہ خان، غازی آباد)۔ فیمینزم کے دور میں عورتوں کے ذریعے دعوت کا کام اس حدیث کا وسیع تر انطباق ہے، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کی ہے: لَتُرْکَبَنَّ الظَّعِينَةُ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَةِ، حَتَّى تَطُوْفَ بِالْکَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا الله (صحیح البخاری ، حدیث نمبر (3595)۔ یعنی تم ضرور دیکھو گے کہ اونٹ پر سوار ایک عورت حیرہ سے (تنہا) آئے گی، یہاں تک کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا ڈر ہوگا۔ اس واقعے میں سبق ہے کہ مسلمان اپنے ماضی (past) کی بنیاد پر اپنی خواتین کو میدانِ عمل سے دور نہ رکھیں، بلکہ حال (present) میں خواتین کے لیے موجود عملی مواقع کی بنیاد پر ان کے لیے دینی اور دعوتی عمل کی پلاننگ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues