Al-Risala · April 2021 · page 28

مسلم دنیا کی تحریکیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸

مسلم دنیا کی تحریکیں

انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ یہ بظاہر بہت بڑی بڑی تحریکیں تھی۔ مثلاً فلسطین کی تحریک اور حکومت الہیہ کی تحریک، وغیرہ۔ ان تحریکوں کی ہنگامہ آرائی پوری دنیا میں سنائی دی۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے یہ تمام تحریکیں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئیں۔ ان کا کوئی مثبت نتیجہ مسلم قوم کو حاصل نہ ہوسکا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان تحریکوں کے بانیوں نے زمانی تقاضوں کو سمجھے بغیر اپنا عمل شروع کر دیا۔ یعنی ظاہری حالات کو دیکھ کر وہ بطور رد عمل اٹھ کھڑے ہوئے اور ہنگامہ آرائی کرنے کو کام سمجھ لیا۔ حالاں کہ کام یہ تھا کہ نئے حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھ کر نتیجہ خیز انداز میں عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔ مگر ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا۔ مثلاً ایک مسلم رہنما نے لکھا ہے کہ مسلم امت کی کمزوری جذبہ قربانی کی کمی ہے۔ عام طور پر مسلم رہنما مسلم قوم کی ناکامی پر ایسا تبصرہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ دور جدید کی پوری مسلم تاریخ قربانی اور جہاد بمعنی قتال کی تاریخ ہے۔ مسلم رہنما ایسا تبصرہ اس لیے کرتے ہیں۔ کیوں کہ نتیجہ نہیں نکل رہا ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قربانی کا واقعہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ جب کہ مسلم قوم کی جانب سے ہر لمحہ کسی نہ کسی مقام پر ایسی قربانی کا عمل پیش آتا رہتا ہے۔ مگر یہ قربانی زمانی حالات کو سمجھے بغیر بطور رد عمل دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا، نہ کہ عملاً قربانی کے واقعے کا پیش نہ آنا۔ موجودہ زمانے میں جو تبدیلی ہوئی ہے، اس سے تمام چیزوں کا معیار بدل گیا ہے۔ مثلاً پچھلے دور میں اوزار لوہار کی بھٹی میں تیار کیے جاتے تھے۔ اب اوزار مشین کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں علم برائے علم کا رواج تھا۔ موجودہ زمانے میں ساری اہمیت پروفیشنل ایجوکیشن کی ہو گئی ہے۔ قدیم زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھ کر تیار کی جاتی تھیں، موجودہ زمانے میں کتابیں کمپیوٹر سے تیار کر کے پریس میں چھاپی جاتی ہیں، وغیرہ۔ اسی زمانی فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے کہ مسلم دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب با اعتبار نتیجہ لا حاصل ہو کر رہ گئیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page