Al-Risala · April 2021 · page 30

ایک ملاقات

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۰

س: فہمِ قرآن کے بنیادی اصول؟

ج: ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ قرآن میں تدبر کرنا، اور تقویٰ کے ساتھ اللہ سے دعا کرنا۔ س: کھانے اور پہننے میں کیا پسند ہے؟

ج: لائف اسٹائل کے معاملے میں میرا اصول یہ ہے— سادہ زندگی، اونچی سوچ: simple living, high thinking س: ہندوستان میں اسلام کی دعوت اور اس پر عمل کتنا دشوار ہے؟

ف انداز میں حکمت کے ساتھ دعوت کا کام کیا جائے۔

س: ایک داعی کو کن اوصاف سے متصف ہونا چاہیے؟

ج: داعی کے دل میں مدعو کے لیے مکمل طور پر خیر خواہی (نصح) کا جذبہ ہونا چاہیے۔ مدعو کی کوئی بھی اشتهال انگیز بات داعی کو خیر خواہی کے جذبے سے دور نہ کرے۔

س: حقوق مسلم کے لیے آپ کی جدوجہد کی چند جھلکیاں؟

ج : میں نے مسلمانوں کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ حقوق طلبی کی مہم ترک کریں، اور لوگوں کے لیے نافع (giver) بن کر زندگی گزاریں۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ الید العلیا بنیں، الید السفلیٰ نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1427)۔ یعنی وہ دینے والے (giver) بنیں، نہ کہ لینے والے۔ س : غیر مسلم کس کس رکاوٹ کی وجہ سے نعمتِ اسلام سے محروم ہیں؟ ج : دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ مسلم مفکرین کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے سیاسی میدان میں مغلوب ہونے کی وجہ سے جدید فکر یا جدید تہذیب کو اسلام کا مخالف سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اور جدید ذہن کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں دعوت کا کام نارمل انداز میں جاری نہیں ہے۔ میری ان کو نصیحت ہے کہ وہ جدید فکر کے خلاف اپنی منفی مہم بند کر دیں۔ اس کے بعد غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام بالکل فطری انداز میں جاری ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page