follow one, respect all
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱
س: فرقہ وارانہ تشدد (مذہبی، مسلکی، سیاسی، لسانی وغیرہ) کے اسباب و وجوہات؟ ج: اختلاف کو بینچ کرنے کا فقدان۔ اختلاف (difference) کے معاملے میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں ۔ غلو کا طریقہ اور ٹالرنس کا طریقہ۔ غلو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مختلف مسالک فکر کے درمیان ایک ہی طریقہ صحیح ہے، دوسرے تمام طریقے غلط ہیں، ان کو ختم ہو جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ رواداری یا وسعتِ نظری کا طریقہ ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ جو اختلاف ہے، وہ تنوع (diversity) کا معاملہ ہے۔ جس کا عملی فارمولا اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ایک کی پیروی، (diversity) کا معاملہ ہے۔ یہ بھی فارمولا اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ سب کا احترام:
follow one, respect all
س: فرقہ وارانہ تشدد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کون کیا کردار ادا کرے؟ ج: نفرت کی فضا کو ختم کرنے کا صرف ایک اصول ہے کہ ایک طرف تو صلح کی ایک ہی پیروی ہے لہٰذا خدا ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔
س: پوری دنیا میں ”مسلمان ہی مظلوم“ کیوں ہیں؟
ج: مسلمان مظلوم نہیں ہیں، وہ اپنی غیر حکیمانہ پلاننگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ص: دینی مدارس کی اصلاح کے لیے کیا تجاویز دیں گے؟
ج: حدیث کے الفاظ میں، وہ بصیر زمانہ بنیں ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ ل میں رچ بس جاے ، اور یہ بصیر زمانہ ہونے کا ن: حدیث کے الفاظ میں، وہ بصیر زمانہ ہیں ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (361) ۔ بصیر زمانہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اہل مدارس زمانے کے مطابق، اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی (right planning) کریں ۔ زمانے سے باخبری کے بغیر اسلامی عمل کی درست منصوبہ بندی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس بنا پر اہل مدارس کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوں، ورنہ ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ مثلاً ہم ایسے زمانے میں ہیں جو امن کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں صرف پر امن منصوبہ بندی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی آج کے رشا ہے، یہ پرداس میں رہ رہا ہے (یہ پیرس میں یہ رہا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues