هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹
تھے۔ انھوں نے بتایا کہ صابن کا اصل جزء تیل ہے۔ صابن میں پوسٹک سوڈا بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر اس کا خاص کام یہ ہے کہ وہ تیل کو جما دے۔ کسی بھی نباتاتی تیل سے صابن تیار ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں صابن نہیں بناتے۔ حالاں کہ صابن بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ شب برات کا حلوہ بنانا۔ اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے گھر میں صابن بناتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کچھ عذر بیان کیے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں صابن بنانے کا کام نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ مسلمان اپنے گھر میں صابن نہیں بناتے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے گھروں میں صابن بنانے کا مشورہ وہ لوگ دے رہے ہیں، جو خود اپنے گھروں میں صابن بنانے کا کام نہیں کرتے۔
مولانا محمد شا کر صاحب (دہلی) نے بتایا کہ ایک شخص پر کسی جرم میں مقدمہ چلا اور اس کو قید کی سزا ہو گئی۔ اس نے جیل خانے سے ایک بزرگ کے یہاں پیغام بھیجا کہ میں جیل میں بند ہو گیا ہوں۔ کوئی ایسا عمل بتائیے کہ اس سے رہائی ہو جائے۔ بزرگ نے اس کو بتایا کہ تم یہ پڑھا کرو: آج کل پرسوں ہزار بار بگوید قفل در زنداں بکشاید اس نے اس جملہ کا ورد شروع کیا اور اسی کے بعد اس کو جیل خانے سے رہائی مل گئی۔ مسلمان بہت بڑی تعداد میں اسی قسم کے طلسماتی اعمال کے فریب میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ دین جو توہمات کو ختم کرنے کے لیے آیا تھا، اس کے ماننے والے خود توہمات میں مبتلا ہو کر رہ گئے۔ مزید یہ کہ انھوں نے تو ہمات کو اسلامائز (Islamize) کر لیا۔ انھوں نے کچھ اسلامی الفاظ بول کر اس کو اسلامی بنا لیا۔
بشیر احمد راشد الامینی (پیدائش 1942) 1970 میں حج کرنے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues