Al-Risala · January 2021 · page 20

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰

مدینہ میں انھوں نے ایک نقشہ خریدا، جس میں مسجد وغیرہ کی تصویریں تھیں۔ انھوں نے اس کو پھیری والے سے لیا تھا۔ پھیری والے نے بتایا تھا کہ اس میں دس تصویریں ہیں۔ مگر انھوں نے گھر پر جاکر دیکھا تو صرف آٹھ تصویریں تھی ۔ وہ دوبارہ پھیری والے کے پاس شکایت کرنے کے لیے گئے۔ پھیری والے نے کہا ہم کیا کریں ہم تو ہول سیلر سے خریدتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو ہول سیلر کے پاس لے چلو ۔ کافی جھگڑا کے بعد وہ راضی ہوا۔ ہول سیلر کے پاس پہنچے تو وہ بھی جھگڑا کرنے لگا۔ بشیر صاحب نے اس کے سامنے ایک آیت پڑھی: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (4:59) - یعنی پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ آیت سن کر عرب دکان دار فوراً چپ ہو گیا۔

اسلام ایک ایسے برتر خدا کا تصور دیتا ہے جو سب سے بلند ہے۔ کسی سماج میں خدا کا تصور زندہ ہو تو یہ اس سماج کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد ایک شخص کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر کسی کو چپ کر سکے۔ وہ خدا کا واسطہ دے کر کسی ظالم کو ظلم سے باز رکھے۔ بزرگیوں کی بزرگی ثابت کرنے کے لیے کس طرح جھوٹے قصے گھڑے جاتے ہیں، اس کی ایک دلچسپ مثال ذیل کا قصہ ہے:

مولانا قاسم نانوتوی کے بارے میں یہ قصہ مشہور ہے کہ مولانا نانوتوی دار العلوم دیوبند میں استاد تھے۔ دار العلوم کی طرف سے ان کو دس روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ نواب صدیق حسن خاں (بھوپال) نے ان کو لکھا کہ آپ دیو بند سے بھوپال آجائیں ۔ یہاں آپ کو 300روپئے ماہوار پیش کیے جائیں گے ۔ مولانا نانوتوی نے ان کو جواب میں لکھا : ”میں یہاں مدرسہ میں دس روپیے ماہوار تنخواہ پاتا ہوں ۔ 5روپیے میں بچوں کا خرچ چل جاتا ہے، اور بقیہ پانچ روپیہ کا مصرف ہر ماہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں بھوپال آجاؤں تو مجھ کو ہر ماہ 295 روپیہ کا مصرف تلاش کرنا ہوگا۔ اور یہ زحمت اٹھانا میرے لیے مشکل ہے“۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page