Al-Risala · April 2021 · page 34

(3) دعوت الی اللہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴

(4) نفرت (hate) کا کلی خاتمہ، منفی سوچ کا کلی خاتمہ، مغرب کو اسلام کا دشمن سمجھنے کے بجائے اس کو اسلام مؤید سمجھنا۔

(5) سیاسی ٹارگٹ کے بجائے آخرت رخی زندگی کو اپنا ٹارگٹ بنانا۔

س: اہل پاکستان کے نام... محبت بھرا پیغام؟

ج: وہ قرآن کی اس آیت کو اپنے لیے رہنما آیت کی حیثیت سے اختیار کرلیں: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) - یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

اس آیت کے مطابق، کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا ابدی دشمن نہیں ہے، پیدائشی طور پر ہر انسان امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اہل پاکستان کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوہ (potential) دوست کو، قرآن کی رہنمائی کے مطابق، بالفعل (actual) دوست بنانے کا طریقہ اختیار کرے ۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی (وفات 1810) اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں: وقيل معناه لا تستوى الحسنة في جزئياتها ولا تستوى السيّئة في جزئياتها بل بعضها فوق بعض في الحسن والسوء فاذا اعترضك من بعض أعدائك سيئة فادفعها بأحسن الحسنات كما لو أساء إليك رجل فالحسنة ان تعفو عنه والتي احسن ان تحسن اليه (تفسير المظہری، جلد 8، صفحہ 296)۔ یعنی بعض علما نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نیکیاں سب ایک درجہ کی نہیں ہوتی ہیں، اسی طرح برائیوں کے درجات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی دشمن کوئی بدی کرے تو اس کے مقابلہ میں بہترین اعلیٰ درجہ کی نیکی سے کام کیا جائے۔ مثلاً کسی نے اگر تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہو تو درگزر کرنا چاہیے۔ لیکن اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ برائی کے بدلے دشمن سے بہترین سلوک کیا جائے ۔ بد اخلاقی کے جواب میں حسن اخلاق بلا شبہ سب سے اعلیٰ اخلاق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page