Al-Risala · April 2021 · page 33

(3) دعوت الی اللہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳

رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے؟

ج: پرابلم کو اگنور کرنا اور مواقع کو دریافت کر کے منصوبہ بند طریقے سے اس کو اوویل کرنا۔ س: کبھی پاکستان کا دورہ کیا... اگر نہیں تو کیا خواہش ہے؟

ج : میں نے پاکستان کا تین مرتبہ سفر کیا ہے۔ ان میں ایک سفر تقسیم سے پہلے 1945 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد دوسرا سفر 1971 میں ہوا، پھر تیسرا سفر 1985 میں ہوا۔ ان کی تفصیل میری کتاب سفر نامہ غیر ملکی اسفار جلد اول میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً میں پاکستان کے تعلق سے مضامین بھی لکھتا رہا ہوں۔ اس وقت ہمارے مشن سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے، جو یقین کر رہا ہوں کہ اس بات کو وقت کے دائرے میں کیسے آگے بڑھنا ہے اس کا پتا چل سکے؟ وہاں ہمارے دعوتی مشن کو یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

س: اُمت مسلمہ کونشاۃ ثانیہ کے سفر میں کس مرحلہ میں دیکھتے ہیں؟

ج: مسلم مفکر نے سمجھتا ہوں کہ مغربی فکر (modern thought) اور اس کے خلاف ایک چیلنج ج: مسلم مفکرّین یہ سمجھتے ہیں کہ جدید فکر (modern thought) ان کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ مگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو جدید فکر کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام مخالف نہیں ہے، وہ عین موافق اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ذہن اور جدید تہذیب پوری کی پوری اسلام کے موافق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو اسلام اور جدید فکر میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ فکرِ جدید کو بدلنے کا نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ اس کے بعد کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا مزاج ہے ہر نئی چیز کے خلاف ہو جانا۔ مثلاً جب کلونیلزم کا دور آیا تو وہ اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی مزاج نے اصل مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنا ہے۔ س : امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

ج: ان کو پانچ پوائنٹ فارمولا اختیار کرنا چاہیے۔ وہ پانچ پوائنٹ فارمولا درج ذیل ہے: (1) معرفت خداوندی (realization of God)

(2) مثبت سوچ (positive thinking)

(3) دعوت الی اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page