Al-Risala · April 2021 · page 36

(3) دعوت الی اللہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶

پائے گا۔ ہر آدمی اللہ کی نظر میں بس ایک انسان ہے، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے۔ ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ امتحان کی دنیا میں اس نے کس قسم کی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ جنت کسی کا قومی وطن نہیں، اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں۔ اللہ کے فیصلہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اٹھاتا ہے، جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ ان کو جہنم آگاہ کریں اور جنت کی خوش خبری دیں۔ خدا کے اسی بشیر و نذیر کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے، نہ کہ کسی اور طریقے سے۔

سوال

قرآن کی ایک آیت ہے: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (4:159)۔ یعنی اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے۔ اس آیت میں بِهِ ضمیر کا مرجع کس کی طرف ہے۔ (ایک قاری الرساله، ممبئی)

جواب

مذکورہ آیت میں پہلی ضمیر کا مرجع قرآن (کی بیان کردہ حقیقت) ہے، اور دوسری ضمیر کا مرجع افراد اہل کتاب۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس معاملے میں قرآن کی بیان کردہ حقیقت کو یقین کے ساتھ مان لیتا ہے۔ یعنی منصوبہ تخلیق کی حقیقت کو مان لیتا ہے، اگر چہ وہ اسلام اور قرآن کا نام نہ لے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی آخری عمر میں پہنچ کر میں کٹ ٹوسائز (man cut to size) بن جاتا ہے۔ اس وقت وہ یہ ریلائز (realize) کرنے لگتا ہے کہ وہ اس دنیا میں عاجز مطلق ہے۔ یہ واقعہ مخصوص طور پر اہل کتاب سے متعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام قانون ہے جس کا اطلاق اہل کتاب پر بھی ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عباس (وفات 68ھ) کے شاگرد عکرمہ تابعی (وفات 105ھ) اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم )

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page