Al-Risala · April 2021 · page 37

(3) دعوت الی اللہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۳۷

تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 386۔

یہود و نصاریٰ کے پاس آسمانی علم تھا ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انہوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کر لیتا ہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ یہ بات جو یہاں اہل کتاب کی نسبت سے کہی گئی ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر انسان کی نسبت سے ہے۔ اللہ کے قانون کے مطابق، ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ اپنی موت سے کچھ لمحہ پہلے ذہنی اعتبار سے موجودہ دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے، اس کو آخرت کی حقیقتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ وقت وہی ہوتا ہے جس کو حدیث میں غرقہ (مسند احمد، حدیث نمبر 6160) کہا گیا ہے۔ یہی واقعہ ہر اہل کتاب کے ساتھ موت کے وقت پیش آئے گا۔ یعنی جس حقیقت کو وہ موت سے پہلے کے دور میں ماننے کے لیے تیار نہ تھا، موت کے وقت، جب کہ موت کا فرشتہ اس کے پاس آ چکا ہوگا، اس پر حقیقت واقعہ منکشف ہو جائے گا۔ اگر چہ وہ اس انکشاف کا اعلان دنیا والوں کے سامنے نہ کر سکے گا، لیکن خود اپنے علم کے مطابق، وہ اس کو بخوبی طور پر جان لے گا۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلام وغیرہ، پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ دین میں انسانی اضافوں سے گزر کر اصل آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آ کر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page