12 اگست 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۹
چاہتا ہے کہ جس طرح میں برباد ہوا ہوں وہ بھی برباد ہو جائیں۔ مگر خود اپنی اولاد کے بارے میں اس کا ذہن اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اپنی اولاد کے بارے میں وہ سوچتا ہے ــــ اگرچہ میری زندگی برباد ہو گئی مگر میری اولاد کی زندگی برباد نہ ہونے پائے۔
12 اگست 1985
بے آمیز حق اس دنیا میں سب سے زیادہ اجنبی چیز ہے۔ ہر دوسری چیز کے گرد انسانوں کی بھیڑ جمع ہوسکتی ہے۔ مگر بے آمیز حق کے گرد چند انسانوں کو اکٹھا کرنا بھی انتہائی حد تک دشوار ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ اس کا زندہ ثبوت ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر تمام معلوم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو صرف ایسے ہی کچھ افراد مل سکے جو خونی رشتہ کی بنا پر ان سے نفسیاتی تعلق رکھتے تھے۔ خونی رشتے سے باہر کوئی شخص انھیں ملا جو حقیقی معنوں میں ان کا ساتھی بن سکے۔ حضرت ابراہیم کا ساتھ دینے والے صرف ان کے بھتیجے حضرت لوط اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل تھے۔ حضرت لوط کا ساتھ آخر وقت میں صرف ان کی بیٹیوں نے دیا۔ حضرت موسیٰ کے سچے ساتھی صرف حضرت ہارون ثابت ہوئے جو ان کے بھائی تھے۔ حضرت مسیح کو ان کی ماں کے سوا کوئی دوسرا نہ مل سکا۔ دوسرے لوگ جو ملے تھے وہ سب آخر وقت میں انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے، وغیرہ۔ پیغمبروں کی تاریخ میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنا (exception) ہے۔ ان کو غیر رشتہ داروں میں بھی ایسے ساتھی ملے، جو واقعی ساتھی تھے۔ جو ساتھ چھوڑنے کے تمام ممکن واقعات پیش آنے کے باوجود آخر وقت تک ان کے ساتھی بنے رہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ براہ راست خدا کے تصرف کے تحت ہوا۔
ہمارے سیرت نگار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ بیان کرتے ہیں کہ درخت اور پتھر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انسان آپ کے ساتھ چلنے لگے تھے، اور یہ معجزہ براہ راست خدائی نصرت کے تحت پیش آیا جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ (49:7) ۔ یعنی