Al-Risala · May 2021 · page 11

13 اگست 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱

سے زیادہ بری حکومت قائم کی جائے ۔

شاہ ولی اللہ اور ان کے رفقاء تحریک کا سکہ اور بہت سا اسلام کو خطرہ ہے میں سکھا، شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ سکھ اور مرہٹہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ سکھ اور مرہٹہ راستے سے ہٹا دئے گئے۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں باقی رہا۔ شاہ عبدالعزیز اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ انگریز سے اسلام کو خطرہ ہے۔ انگریز کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا جو مسئلہ تھا وہ حل نہ ہوا۔ محمد علی جناح اور دوسرے مسلم لیڈروں نے کہا کہ ہندو فرقہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ ہندو سے کٹ کر مسلمانوں کی علیحدہ ریاست قائم ہو گئی۔ مگر اس کے باوجود اسلام مسائل سے گھرا رہا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کے ہم خیال لوگوں نے کہا کہ ایوب اور بھٹو سے اسلام کو خطرہ ہے۔ ایوب اور بھٹو کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا خطرہ نہیں ہوا۔ مولانا علی میاں اور ان کے ماننے والوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے شاہ بانو کیس کے فیصلہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے آزاد کر دیا۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں گھرا رہا۔ یہ مسلمانان ہند کی تقریباً چار سو سال کی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہر وہ طاقت جس کو مسلمانوں نے اسلام کا دشمن قرار دیا وہ راستے سے ہٹائی جاتی رہی۔ مگر اسلام اور مسلمان بدستور خطرات میں گھرے رہے۔ ہندوستان میں بھی، پاکستان میں بھی اور بنگلہ دیش میں بھی۔ یہ طویل تجربہ یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ مسلم قائدین کی نشان دہی غلط تھی۔ مگر مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ ہر اگلا قائد پچھلے قائدین کا صرف مقلد بنا ہوا ہے۔ ماضی کی نادانیوں نے مسلمانوں کو کوئی سبق نہیں دیا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار امام شافعی سے پوچھا خدا کی کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page