Al-Risala · May 2021 · page 12

13 اگست 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲

بارے میں آپ کا علم کیا ہے (ما علمك بكتاب الله ) ۔ امام شافعی نے جواب دیا کہ علوم قرآن کی بہت سی قسمیں ہیں۔ آپ کی مراد کس علم سے ہے۔ کیا امثال و اخبار سے، محکمات سے، متشابہات سے، تقدیم و تاخیر سے، ناسخ و منسوخ سے، باعتبار مکان مکی و مدنی سے یا باعتبار زمان لیلی و نہاری ( رات یا دن ) سے، صیفی و شتائی ( گرمی یا سردی) سے، باعتبار قیام اور سفر و حضر سے، اس کے اعراب اور حروف و الفاظ سے۔ اس طرح امام شافعی نے قرآن کے 73 علوم گنا دیے ۔

ہارون رشید نے یہ سن کر کہا کہ آپ نے قرآن کے بہت کافی علوم کو جمع کر لیا ہے (لقد أوعيت من القرآن علماً عظيماً ) - مراة الجنان وعبرة اليقظان لليافعي، جلد 2 ، صفحہ 17 بظاہر یہ بڑے کمال کی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ صحابہ کرام قرآن کے ان 73 علوم سے واقف نہ تھے تو یہ مہارت اسلام کے بجائے محض ایک فن نظر آنے لگتی ہے۔ کیوں کہ اسلام اگر ان علوم کا نام ہوتا تو صحابہ کرام ضرور ان علوم کے ماہر ہوتے۔ 16 اگست 1985 امریکن رائٹر رالف والڈو ایمرسن (1882-1803, Ralph Waldo Emerson) نے لکھا ہے کہ تم ایک اچھا چوہے دان بناؤ اور دنیا خود ہی چل کر تمھارے دروازے پر آ جائے گی: Build a better mousetrap and the world would beat a path to your door. لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز معیار (quality) ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ جو چیز وہ بازار سے خریدے وہ اعلیٰ معیار کی ہو۔ استعمال کے وقت ہر اعتبار سے وہ بہترین ثابت ہو۔ لوگوں کا یہ مزاج ہی کسی آدمی کے لیے موجودہ دنیا میں ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور ترقی کا مقام حاصل ہو اس کو صرف ایک کام کرنا چاہیے۔ وہ جو کام بھی کرے اعلیٰ معیار پر کرے اس کے بعد دنیا خود اسے اس کا مطلوبہ مقام دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ دہلی میں اس اصول کی ایک زندہ مثال خلیق احمد ٹونکی ( پیدائش 1932) ہیں۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page