Al-Risala · May 2021 · page 16

13 اگست 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶

شیخ سعدی نے یہی بات کسی قدر مختلف انداز میں اس طرح کہی ہے : تا مرد سخن نہ گفتہ باشد، عیب و هنرش نهفته باشد آدمی جب تک بات نہ کہے تو اس کا عیب و ہنر چھپا رہتا ہے اس بات کو انگریزی میں کسی نے اس طرح بڑی خوبصورت کہہ ہے سے الٹانا کہ آگا اِس بات کى ديروں ميں کُھلتى رہتى ہے تِہہ بہ تِہہ چُپ ہیں ، اور ہم اُن الفاظ کے غلام ہیں جو ہم اپنی زبان سے کہہ دیں : مختلف زبانوں میں اس طرح کے مشابہ اقوال کا ایک مظاہرہ ہیں کہ تمام انسان حقیقتًا ایک ڈھنگ پر سوچتے ہیں۔ تمام حقیقتیں آفاقی حقیقتیں ہیں۔ فطرت کی سطح پر سب کا اندازِ فکر ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو ایک زبان میں بیان کرتا ہے اور کوئی شخص دوسری یہ کہتا ہے کہ یہی تہے دی ہے اس کی رویت وہیں بیان ہوتی ہے زبان میں ۔

حضرت مجمع کے والد بزرگوار کا جو انتقال ہوا ہے، اس میں بڑے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ایک دعا عربی ماہ نامہ العربی میں پڑھی۔ وہ دعا یہ ہے : اِنّي اَطَعْتُكَ فِي اَحَبِّ الْاَشْيَاءِ اِلَيْكَ، وَهُوَ التَّوْحِيدُ، وَلَمْ اَعْصِكَ فِي اَبْغَضِ الْاَشْيَاءِ اِلَيْكَ وَهُوَ الْكُفْرُ، فََاغْفِرْ لِي مَا بَيْنَهُمَا (الاخبار الموفقيات للزبیر بن بكار، صفحہ 198)۔ یعنی خدایا، میں نے تیری سب سے زیادہ محبوب چیز میں تیری اطاعت کی ہے، اور وہ توحید ہے۔ اور تیری سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز میں تیری نافرمانی نہیں کی اور وہ کفر ہے۔ پس ان دونوں کے درمیان جو ا . . . . . پیدیا ، میری ساری عمر کا حاصل اگر کچھ ہے اس میں تو مجھ کو بخش دے۔

اقبال کا نظریہ عمل شعری“ ایک مختصر کتاب جس کے مصنف اقبال کی نظری و عملی شعریت ایک مختصر کتاب ہے جس کے مصنف پروفیسر مسعود حسین خاں (پیدائش (1919 ہیں ۔ انھوں نے یہ کتاب سری نگر (کشمیر) میں اپنے قیام کے دوران مرتب

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page