13 اگست 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵
اس روز نامہ کا ضرورت نہیں تا کہ اس کی نیابت کی اس وجہ سے پاک کے لیے تیار ہوتا ہے۔
چند آدمیوں سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ دین کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ دین کی اصل حقیقت اپنے آپ کو خدا کے آگے سرنڈر کرنا ہے۔ یہی دین کا اول بھی ہے اور یہی دین کا آخر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے جس کا سب سے زیادہ طاقت ور جذ بہ انا (ego) کا جذ بہ ہے۔ انسان کی انا اپنی نوعیت کے اعتبار سے خدائی انا کی ہم سطح ہے۔ مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کو کسی بھی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انسان ، بلا تشبیہہ، ایک خدا ہے۔ مگر وہ ایک ایسا خدا ہے، جو ذاتی اختیار سے مکمل طور پر محروم ہو۔ اس کے تمام اختیارات خدا کی طرف سے عطیہ ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہو رہا ہے۔ گویا کہ مجازی خدا کو حقیقی خدا کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ بلا شبہ مشکل ترین کام ہے مگر اسی مشکل ترین کام میں انسان کی نجات کا راز چھپا ہوا ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا۔ اس لیے مذکورہ اعتراف براہِ راست خدا کے سامنے نہیں ہوتا، یہ اعتراف عملاً ایک انسان کے سامنے ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی انسان دلیلِ حق کے ساتھ کھڑا ہو تو انسان (یا اس دلیلِ حق ) کی حیثیت مخاطبین کے لیے خدا کے نمائندہ کی حیثیت ہو جاتی ہے۔ اس وقت جو شخص جھک گیا، وہ خدا کے سامنے جھکا۔ اس وقت جو شخص نہیں جھکا، اس نے خدا ہ, اس بات ، یہ بات کی رواداری یا مزاحمت یا ان کی حالتِ زار میں سب کے کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
عربی کا ایک مقولہ ہے: إِذَا تَكَلَّمْتُ بِالْكَلِمَةِ مَلَكَتْنِي وَإِذَا لَمْ أَتَكَلَّمْ بِهَا مَلَكْتُهَا (الدر الفريد وبيت القصيد للمستعصمي، جلد 6، صفحہ (65)۔ یعنی جب میں نے ایک بات کہہ دی تو وہ میرے اوپر اختیار حاصل کر لیتی ہے اور اگر میں بات نہ کہوں تو میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں۔