Al-Risala · May 2021 · page 18

26 اگست 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸

اسلامی اصطلاح میں ہجرت کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ، داخلی ہجرت ( الهجرة الداخلية ) دوسری ، خارجی ہجرت ( الهجرة الخارجية ) ۔ داخلی ہجرت بڑی ہجرت ( الهجرة الكبرى ) ہے، اور خارجی ہجرت چھوٹی ہجرت ( الهجرة الصغرى ) ہے۔

داخلی ہجرت کو مختلف احادیث رسول سے سمجھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: المُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 6484)۔ یعنی مہاجر وہ ہے، جو اس کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ایک بار پوچھا گیا : أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 19435)۔ یعنی سب سے افضل ہجرت کون سی ہے؟ آپ نے جواب دیا: یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔

یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ داخلی ہجرت اور داخلی جہاد کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے: وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذَّنُوبَ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو ترک کردے، اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے لڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مواقع پر داخلی جہاد کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ ان میں ے ۔

سے بعض روایات درج ذیل ہیں:

المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ (جامع الترمذی، حدیث نمبر (1621)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔

المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر (23951)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اللہ کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم تھی جس میں کوئی جنگ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page