26 اگست 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹
پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَدِمْتُمْ مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ . قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ ( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، جلد 13، صفحہ 498، البیہقی، الزہد الکبیر، حدیث نمبر 373)۔ تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے کہا: جہاد اکبر کیا ہے، اے خدا کے رسول، آپ نے کہا: بندے کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی ’’چھوٹی ہجرت‘‘ اور ’’چھوٹے جہاد‘‘ کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ مگر بڑی ہجرت اور بڑے جہاد کی کسی کو خبر نہیں۔ 28 اگست 1985 سائنس کی تاریخ میں اکثر بڑی دریافتیں اتفاق (chance) کے ذریعہ پیش آئی ہیں۔ چنانچہ سائنس دانوں نے اس کے لیے ایک خاص لفظ وضع کیا ہے، جس کو سرینڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ سرندیپ کی ایک کہانی سے لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ سائنسی دریافتوں کو خوش گوار واقعات (happy accidents) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اکسرے (X-rays) کی دریافت اتفاقی طور پر ہوئی۔
تاہم یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اتفاق بذات خود دریافت تک پہنچاتا ہے۔ ہندوستانی سائنس داں سی وی رمن (1970-1888 ,Chandrasekhara Venkata Raman) نے صحیح کہا ــــ ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے۔ یعنی ایک شخص جو باتوں کو جانتا ہو اور وہ تحقیق میں لگا ہوا ہو، وہی بوقت اتفاق کسی بات کو پکڑ سکتا ہے۔ اسی بات کو پاسچر (1895-1822 ,Louis Pasteur) نے ان الفاظ میں کہا تھا ــــ مشاہدات کے میدان میں اتفاق صرف تیار ذہن کے لیے کارآمد ہوتا ہے: In the field of observation, chance favours only the prepared mind. اکسرے کا موجد رائنجن (1923-1845 ,Wilhelm Conrad Röntgen) قرار