5 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴
ایک بے صلاحیت آدمی کے لیے مشہور ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ شہید ہو جائے: یہ قول، خاص طور پر موجودہ پریس کے دور میں نہایت درست ہے۔ آج کوئی شخص قوم یا مذہب کے نام پر ایک احمقانہ اقدام کرتا ہے۔ اس کے بعد فورا اس کا نام چھپنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ تیزی سے شہرت حاصل کرلیتا ہے۔ احمقانہ اقدام کر کے شہید ہونا قوم کو تو کچھ نہیں دیتا، البتہ وہ شخص فوراً شہرت کا مقام پا لیتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں اس قسم کی شہرت حاصل کرنے والوں کی تعداد شاید سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہے۔ موجودہ زمانہ میں لاکھوں مسلمان ہیں جنھوں نے قوم یا مذہب کے نام پر شہید ہو کر غیر معمولی شہرت پائی۔ حالاں کہ ان کی شہادت سے نہ مذہب کو کچھ ملا اور نہ قوم کو۔ دی اس میں مالتی اور ایک تاش کے پتے جیسی تاش کی طرح کٹ | ذاتی شہرت کا ذریعہ۔
انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز در یافت ہے۔ در یافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں اور در یافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔
قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو غیب پر ایمان لائے۔ اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ ہیں: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3) ۔ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے ۔ یہ دوسرے لفظوں میں نا معلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں یہ ہے؟ ) دورسی (discovery) کہا جاتا ہے۔