Al-Risala · May 2021 · page 26

وہ مایوسی نے

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۶

وہ مایوسی نے

میں کے اپنے تجربے میں پایا ہے لہٰبیں سرلوں مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ وہ مایوسی کے احساس میں جیتے ہیں اور مایوسی میں مرجاتے ہیں۔ اِس المیہ کا بنیادی سبب کیا ہے ۔ وہ سبب یہی ہے کہ بیش تر لوگ اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز نہیں پاتے، اور جب آپ صحیح نقطۂ آغاز کو نہ پائیں تو آپ کی تمام سرگرمیاں آپ کے مطلوب کے اعتبار سے بے نتیجہ ہوکر رہ جائیں گی۔ اس دنیا میں قانون فطرت کے مطابق، کسی انسان کے لیے جو چیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق کرے، اور پھر اپنا منصوبہ بنائے، یعنی آئیڈیل کو چھوڑ کر مہ, ہے رھا ہی, اورا, روپیس, کی, دوں, یا, س, ے، روپ, یہ, پ, رہ, ہو, ر, پر, چہ, ب, پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کرنا۔ آدمی کے لیے یہی درست نقطۂ آغاز ہے۔ م, پر, کر, ی, ش, ف, ک, م, ة, س, کے, س, ل, ل, ر, اپنے بس میں صرف برداشت ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے صرف دوسروں کے بس میں ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے لیے ایک ہی ممکن طریق کار ہے۔ وہ اپنے بس والے مقام سے آغاز کرے۔ اگر اس نے وہاں سے آغاز کرنا چاہا جو دوسرے کے بس میں ہے تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اس نے حقیقۃً آغاز ہی نہیں کیا، اور جو شخص آغاز نہ کرے، وہ اختتام کو کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (15 ستمبر 1985) نے ہندوستان کے معاشی سی ، ڈی ، ریڈیو، اخبارات، لٹریچر اور میڈیا کے ذریعہ اور سیاسی حالات پر ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے :

Ours is a Story of Missed Opportunities ہماری کہانی کھوئے ہوئے مواقع کی کہانی ہے۔

یہ بات ملک سے زیادہ مسلمانوں پر صادق آتی ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں سب سے بڑی نادانی یہ کی ہے کہ انھوں نے مواقع اور امکانات کو نہیں پہچانا۔ وہ انتہائی قیمتی مواقع کو انتہائی بے دردی کے ساتھ ضائع کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ ان کی وہ ناکامی ہے جس سے آج وہ دوچار ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page