18 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷
اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں دینے والا پاتا ہے۔ اگر آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو آپ بھی دوسروں سے کچھ نہیں پا سکتے۔
دوسروں کے لیے نفع بخش بنئے، اور اگر آپ نفع بخش نہیں بن سکتے تو دوسروں کو اپنے ضرر سے بچائیے ۔ دوسروں کو اپنے ضرر سے بچانا بھی انھیں کچھ دینا ہے۔ اگر آپ دوسروں کو نہیں دے سکتے تو دوسروں سے چھیننے کی بھی کوشش نہ کیجیے۔
18 ستمبر 1985
جولائی 1402ء میں انگورہ (Angora) کے میدان میں دو مسلم بادشاہوں کی لڑائی ہوئی۔ ایک طرف تیموری سلطنت کا بانی سلطان تیمور (1405-1336ء) تھا، دوسری طرف عثمانی سلطان بایزید اول (1403-1360ء)۔ یہ ایک نہایت خوف ناک جنگ تھی۔ اس میں تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے اور بایزید کی فوج کے صرف پچاس ہزار آدمی مارے گئے۔ اس کے باوجود شکست سلطان بایزید کے حصہ میں آئی۔
اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ سلطان تیمور کی فوج میں پانچ لاکھ سپاہی تھے۔ جب کہ سلطان بایزید کی فوج میں کل ایک لاکھ سپاہی تھے۔ اس طرح سلطان تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہونے کے بعد بھی اس میں چار لاکھ آدمی باقی تھے، اور سلطان بایزید کی فوج میں کل ایک لاکھ آدمی تھے۔ چنانچہ پچاس ہزار آدمیوں کے قتل ہو جانے کے بعد اس میں صرف پچاس ہزار آدمی باقی رہ گئے۔ سلطان بایزید بے حد بہادر آدمی تھا۔ مگر کیفیت (quality) کی زیادتی کمیت (quantity) کی کمی کو ایک حد تک ہی پورا کر سکتی ہے۔ اگر فریقین کے درمیان کمیت کے تناسب میں غیر معمولی فرق واقع ہو جائے تو کیفیت کی زیادتی کمیت کی کمی کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو