18 ستمبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳
اَلْقُوَّةُ الرَّمْيُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1917)۔ جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔
تاہم ان مصادر (sources) کے ساتھ ایک اور چیز انتہائی ضروری ہے، اور وہ ہے فقہ (حکمت و بصیرت)۔ اگر فقہ نہ ہو تو آدمی فرسٹ مصدر اور سیکنڈ مصدر کا ماہر ہونے کے باوجود قرآن کی درست تفسیر نہ کر سکے گا۔ مثلاً پہلی آیت (الفاتحه، 1:7) کی تفسیر میں مذکور حدیث میں صرف آدھی بات ہے۔ مکمل بات ایک دوسری حدیث کو ملانے سے سمجھ میں آتی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں امت مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لَتَتْبَعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ : فَمَنْ ؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320)۔ یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی ضرور اس میں داخل ہو جاؤ گے، ہم نے کہا: اے خدا کے رسول، یہود و نصاری، آپ نے کہا: اور کون۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعد جو کچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے۔ ان دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں مغضوب اور ضالین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے زوال یافتہ ذہنیت کی وجہ سے خدا کی ناراضگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہود و نصاری نے ایسا کیا تھا، بعد کے زمانے میں امت محمدی پر ایسا وقت آ سکتا ہے۔
اسی طرح دوسری آیت (الانفال، 60: کی تفسیر میں مذکور حدیث کو بھی بالکل لفظی معنی میں لے لیا جائے تو اسلام ایسی سائیکل کی مانند بن جائے گا، جس کا ہینڈل کس دیا گیا ہو، اور وہ سائیکل دائیں بائیں گھوم نہیں سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری آیت کی یہ تفسیر ایک زمانی تفسیر ہے، نہ کہ ابدی تفسیر۔ اگر اس تفسیر کو ابدی تفسیر قرار دیا جائے تو بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے فوجی قوت کے لیے جو نئے نئے اضافے کیے، وہ سب غیر اسلامی قرار پائیں گے۔ یا کم از کم یہ کہ بدلتے ہوئے زمانہ کے