Al-Risala · May 2021 · page 32

18 ستمبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲

اور آگے پیچھے خرچ کرو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 990)۔

یہ اصول نہ صرف آخرت کی فلاح کا ضامن ہے بلکہ دنیا کی ترقی بھی اسی سے ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کئی ملکوں میں بیرونی افراد کے خلاف سخت ناراضگی پیدا ہوئی۔ مثلاً افریقن ملک یوگنڈا میں ایشیائی لوگوں کے خلاف، سری لنکا میں تامل والوں کے خلاف، پاکستان میں مہاجرین کے خلاف، وغیرہ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ان لوگوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا، مقامی آبادی پر خرچ نہیں کیا۔

جو تجارتی قومیں اس راز سے واقف ہیں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مستقل طور پر مقامی آبادی کی فلاح پر خرچ کرتی ہیں ۔ چنانچہ وہ نہایت کامیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہندستان میں جینی فرقہ اور پارسی فرقہ۔ یہ لوگ بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی دولت کا بڑا حصہ ان کے قبضہ میں ہے۔ مگر آج تک ان کے خلاف کوئی ردِ عمل نہیں ہوا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسروں کے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، تعلیمی وظائف وغیرہ وغیرہ۔ 1 اکتوبر 1985 علمائے تفسیر کا کہنا ہے کہ قرآن کی تفسیر کا مصدر اول خود قرآن ہے۔ اور قرآن کی تفسیر کا مصدر دوم وہ حدیث کو قرار دیتے ہیں۔

مثلاً سورہ فاتحہ میں ہے، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (1:7)۔ یعنی ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستے سے بھٹک گئے۔ یہاں سوال ہے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں۔ حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ (مسند احمد، حدیث نمبر 19381)۔

اسی طرح قرآن میں ہے، وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60)۔ یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھوقوت۔ یہاں قوت سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلہ میں حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page