Al-Risala · May 2021 · page 35

15 اکتوبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵

اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ عورت باعتبار تخلیق کوئی بری چیز ہے۔ اس میں صرف عورت کے اس غلط استعمال کا ذکر ہے جس کے نتیجہ میں عورت سماج کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ مولانا امیر اللہ خاں قاسمی ایک عربی مدرسہ چلاتے ہیں۔ انھوں نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ بتایا۔ ایک سفر میں ان کی ملاقات ایک عرب سے ہوئی۔ عرب نے گفتگو کے دوران کہا: چِنْسُکَ جَيِّدٌ مولانا امیر اللہ صاحب اس جملہ کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے عرب سے دوبارہ پوچھا کہ ’’چنسک‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ اس نے کاغذ پر لکھ کر بتایا تو معلوم ہوا کہ وہ کہہ رہا ہے: تمھارا چانس (chance) بہت اچھا ہے۔ عربوں میں انگریزی الفاظ کتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں، اس کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے۔

15 اکتوبر 1985

قرآن کے سلسلہ میں ایک مسئلہ اختلافِ قرأت کا ہے۔ مگر اختلافِ قرأت کا مطلب اختلافِ متن نہیں ہے۔ قرآن میں جو اختلافِ قرأت ہے وہ دو قسم کا ہے۔ ایک وہ اختلافِ لہجہ (accent) کے فرق کا نتیجہ ہے۔ چوں کہ عرب کے مختلف قبائل میں الفاظ کی ادائیگی میں بعض فرق پایا جاتا تھا، اسی بنا پر قرآن کی قرأت میں بھی بعض مقامات پر فرق ہو گیا۔ مثلاً مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ (1:4) کے بجائے مَلِكَ يَوْمِ الدِّينِ (میم کے بعد الف کے بغیر) یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (114:1) کی جگہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وغیرہ۔ اس قسم کا فرق صرف پڑھنے کا فرق ہے، ان میں کتابت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

اختلافِ قرأت کی دوسری صورت وہ ہے جس میں لفظ کا فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے: أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ (17:93)۔ یعنی یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر ہو جائے۔ اس آیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے پڑھا: أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ ذَهَبٍ (تفسیر ابن کثیر،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page