Al-Risala · May 2021 · page 36

17 اکتوبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۶

جلد 5، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سورہ الجمعہ میں ہے: فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ (62:9) یعنی اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو۔ اس کو بعض صحابہ نے اس طرح پڑھا: فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سور البقرۃ میں ہے: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ (2:198)۔ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ اس کو ابن عباس نے اس طرح پڑھا ہے: لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ (فضائل القرآن للقاسم بن سلام، صفحہ 325)۔ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو حج کے زمانے میں۔

اختلاف قرآت کی یہ دوسری مثالیں قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ تفسیر کی قبيل سے ہیں۔ یعنی صحابی نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک نیا لفظ استعمال کیا تا کہ مخاطب اس کو سمجھ سکے۔ ورنہ دنیا میں ایسا کوئی قرآن موجود نہیں جس میں متن کی کتابت اس دوسرے طریقے سے کی گئی ہو۔ کسی عبارت کے مفہوم کو کھو لنے کے لیے اس کے لفظ کو بدلنا پڑتا ہے۔ اختلاف قرآت کی دوسری قسم کا مطلب یہی ہے، صحابہ نے تفہیم کے مقصد سے لفظ بدل کر پڑھا۔

17 اکتوبر 1985

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے حکم سے کئی مؤذنوں کی تقرریاں ہوئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال ان مؤذنوں کے صدر تھے۔ جب کوئی حکم ہوتا تو حضرت بلال کے واسطے سے تمام دوسرے لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جاتا۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: أَمَرَ بِلالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 627)۔ یعنی آپ نے بلال کو حکم دیا کہ وہ اذان میں تشفیع کرے اور اقامت میں ایثار کرے۔

اس قسم کی روایتوں کا مطلب احناف اس طرح بتاتے ہیں: أن يكون المراد من أن يشفع الأذان: بالصوت، فيأتي بصوتين صوتين، ويوتر الإقامة في الصوت ( تجرید القدوری، جلد 1، صفحہ 419)۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اذان میں شفع کرے، اس کو دو دو (اونچی) آواز میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page