11 اکتوبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸
اوپراٹھا سکتا ہے۔ یا تو اپنی ذاتی محنت سے یا دوسروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر: In the world there are only two ways of raising one self, either by one's own industry or by the weakness of others. اس کی ایک مثال ہندوستان ہے، اور دوسری مثال جاپان کی جدید تاریخ ہے۔ ہندوستان نے 1947 میں جو آزادی حاصل کی، وہ دراصل دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے زبردست ترقی حاصل کی۔ اس کا راز جاپانی قوم کی وہ محنت تھی جو اس نے جنگ میں شکست کے بعد مسلسل انجام دی۔
11 اکتوبر 1985
میرا خیال یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے پاس قومی حیثیت سے مثبت احساس موجود نہیں ہے۔ واحد چیز جوان کے پاس ہے وہ مخالف ہند و احساس (anti-Hindu feeling) ہے۔ اسی پر موجودہ زمانہ کے مسلمان کھڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی تحریک اٹھتی ہے جس میں ہندو کے خلاف جذبات کے لیے اپیل ہو تو فوراً مسلمانوں کی بھیڑ کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور دعوت پر ان کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانے کے قائدین نے مسلمانوں کے اس احساس کو بھر پور طور پر استعمال کیا ہے۔ ہر وہ مسلم قائد جس نے موجودہ زمانے میں بڑی مقبولیت حاصل کی ہے، اس نے یہ مقبولیت اسی مخالفانہ احساس کو استعمال کر کے حاصل کی ہے۔ مگر میں اس قسم کی قیادت کو سراسر باطل سمجھتا ہوں ۔ کسی قوم کو مثبت نفسیات پر اٹھانا قیادت ہے، اور کسی قوم کو منفی نفسیات پر اٹھانا ہلاکت۔ 12 اکتوبر 1985 مسلم رہنماؤں نے ملک کی تقسیم (1947) اس لیے کرائی تھی کہ اس سے ہندو مسلم مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر نتیجہ ان کے اندازے کے بالکل برعکس نکلا۔ تقسیم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اختلافات کو اور بڑھا دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے بالکل درست لکھا ہے : After Partition of the Subcontinent into India and Pakistan,