11 اکتوبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹
constituted a complication (EB. 8/907)
یعنی انڈیا اور پاکستان کی صورت میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں میں سیاسی اختلافات پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے ۔
اس نتیجہ کو بطورِ واقعہ خود مسلم قائدین بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ البتہ اس کی ذمہ داری وہ یک طرفہ طور پر ہندو اکثریت پر ڈالتے ہیں ۔ ان کی یہ روش بھی کس قدر عجیب ہے ۔ جو نتیجہ ان کی اپنی سیاسی فکر کو غلط ثابت کر رہا تھا ، اس کو انھوں نے دوبارہ دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کا ذریعہ بنا لیا۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم کے آپریشن کے باوجود اگر حالات کی باگ ڈور بدستور ’’ہندو‘‘ کے ہاتھ میں ہے تو اس ہولناک آپریشن کی کیا ضرورت۔
کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہو بات کی دردو بدل دو، ہمارا دور تمھارے ہاں ملتا ہے ,, ,, ,, ,, „ کے ” کہ ” الہ آباد میں جنت کے بارے میں قرآن میں ’’عِندَكَ‘‘ اور ’’عِندَ رَبِّهِم‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلسِ خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفیکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔ وہاں پرفیکٹ باتیں ہوں گی ۔ پرفیکٹ سلوک ہوگا۔ پرفیکٹ سامان ہوں گے۔ یہ ایک پرفیکٹ ماحول ہوگا، اور پرفیکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔
یہ پرفیکٹ دنیا(perfect world) اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ صرف ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اور وہ ہے پرفیکٹ تھنکنگ۔ آدمی عمل کی سطح پر پرفیکٹ نہیں سکتا۔ مگر سوچ (thinking) کی سطح پر وہ پرفیکٹ بن سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔
میں ان دنوں اس کتاب پر کام کر رہا ہوں۔ پیر بخش تو