18 اکتوبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱
اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن خدا کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہے اور دنیا میں اس کو انسانوں کے پڑوس میں رہنا پڑتا ہے۔ اس کی نظروں میں ” پرفیکٹ “ سمایا ہوا ہوتا ہے اور دنیا میں اس کو ” امپر فیکٹ “ سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ کامل سچائی کا طلب گار ہوتا ہے اور دنیا میں وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ اور ناانصافی اور دھاندلی کی حکمرانی ہے۔ وہ اصول پسند ہوتا ہے جب کہ دنیا میں اس کو ہر طرف بے اصولی کا راج دکھائی دیتا ہے۔
غیر مومن با اصول یا آئیڈ یلسٹ نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔ وہ ہر صورت حال میں ڈھل کر اپنا مفاد محفوظ کر لیتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا اسی لیے اسے کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہوتی۔
18 اکتوبر 1985
خواجہ غلام الثقلین نے بیرونی ملکوں میں مسلمانوں کا تبلیغی مشن بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا تھا:
فرض کیجیے کہ کچھ حضرات یہ مشن لے کر جاتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے سامنے اسلامی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں کہ اسلام ہمیں سچائی ، انصاف، کاروبار میں دیانت داری ، روز مرہ زندگی میں باہمی تعاون، غریبوں کی مدد کرنا، شراب نوشی اور سود خواری سے دور رہنا سکھاتا ہے۔ تب ممکن ہے کہ وہ لوگ یہ دریافت کریں کہ کیوں صاحب، ہندوستان کے مسلمان تو عام طور پر دیانت دار ہوں گے۔ آپ کے معاشرہ میں اقتصادی مساوات ہوں گی۔ اور وہاں نہ کوئی مسلمان شراب پیتا ہوگا اور نہ سود کھاتا ہوگا۔ اگر ہمارے مبلغین نے راست گوئی سے کام لیا تو انھیں کہنا پڑے گا کہ نہیں بھائی، ہمارے یہاں بھی یہ انفرادی و اجتماعی خرابیاں موجود ہیں۔ تو پھر وہ ضرور کہیں گے کہ آپ اپنے ملک واپس جاکر مسلمانوں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔ اور جب وہ صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں تو پھر آپ ہمارے پاس آ کر تلقین کریں۔ چنانچہ مسلمان کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرے۔