Al-Risala · May 2021 · page 40

11 اکتوبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

عربی زبان میں غیر معمولی طور پر یہ صلاحیت ہے کہ وسیع مضامین کو مختصر لفظوں میں ادا کرسکے۔ غالباً کسی اور زبان میں یہ صلاحیت اتنی زیادہ نہیں۔

ماہنامہ العربی (کویت) کو اپنی اشاعت اکتوبر 1985 میں صفحہ 32 پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک عرب شیخ اپنے مخصوص حلیہ میں چھڑی لیے ہوئے کھڑا ہے۔ اس کے پیچھے ایک ہرے بھرے فارم کی تصویر ہے جس میں کھیت اور باغ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تصویر کے اوپر (فارمر کی زبان سے) لکھا ہوا ہے ـــ انھوں نے بویا تو ہم نے کھایا، ہم بوتے ہیں تا کہ وہ کھائیں : زرعوا فأكلنا، ونزرع ليأكلوا یعنی ہماری پچھلی نسلوں نے درخت لگائے جن کا پھل ہم کو ملا۔ اب ہم درخت لگا رہے ہیں تاکہ ہمارے بعد کی نسلیں اس کا پھل پاسکیں۔ جولوگ عربی زبان اور اس کے ساتھ دوسری زبانیں جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس تصور کو اتنے کم الفاظ میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ ادا کرنا کسی اور زبان بات میں رہا جات میں اس کی ضرورت نہیں | میں شاید ممکن نہیں۔

ایمان ایک دریافت ہے، اور دعوت اس دریافت کا ایک خارجی اظہار۔ شرعی اعتبار سے دعوت ایک خدائی حکم کی تعمیل ہے۔ اور نفسیاتی اعتبار سے ایک اندرونی تپش کا بے قرارانہ اظہار۔ دعوت کے ایک خدائی حکم ہونے کا شعور نہ ہو تو آدمی استقلال کے ساتھ اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اگر دعوت کے پیچھے نفسیاتی انقلاب کی زمین موجود نہ ہو تو اس کے اندر وہ کیفیت اور وہ زور پیدا نہیں ہو سکتا جو سننے والے کو ہلائے اور اس کی سوچ بدلنے پر مجبور کر دے۔

حدیث میں آیا ہے : اَلْدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْکَافِرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر ـــ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page