Al-Risala · January 2021 · page 25

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۵

یقینا پھیلانے والے ہیں۔

قدیم مترجمین کی سمجھ میں پھیلانے والے کی معنویت نہ آسکی، اس لیے انھوں نے لَمُوسِعُونَ کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے: وہر آئینہ ما تو انائیم۔

اور ہم کو سب مقدور ہے۔

اور ہم وسیع القدرت ہیں۔

اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔ اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور ہم یقیناً بڑی طاقت والے ہیں۔ اور ہم ہی صاحب قدرت ہیں۔ وغیرہ۔ خالص لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ لفظی ترجمہ یہ ہے: "ہم کشادہ کرنے والے ہیں" یا "ہم پھیلانے والے ہیں۔ " ترجمہ کے اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی محدودیت اس کو نہ پاسکی۔ مگر قرآن کے مصنف کو یہ حقیقت اس وقت بھی معلوم تھی کہ جب کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کو نہیں جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے موسعون (ہم پھیلانے والے ہیں) کے لفظ کا انتخاب فرمایا۔ قرآن میں اس طرح کے کثیر شواهد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن عالم الغیب کا کلام ہے، محدود ذہن رکھنے والا انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page