هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴
یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جس میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے، جوجنتا پارٹی کے نام سے حکومت میں آئے تھے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کا حکومت میں آنا بالکل جوار بھاٹا کا معاملہ تھا۔ وہ تیزی سے گورنمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئی اور پھر دو سال بعد تیزی سے باہر نکل گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنتا پارٹی دراصل مخالف کانگریس عناصر کا دوسرا نام تھی۔ جو لوگ کسی مخالفانہ نعرے کی بند پر اکٹھا ہوں ان کے اجتماع و اتحاد پر ایک نادان آدمی ہی خوش ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح اکٹھا ہونے والے لوگ ہمیشہ نہایت سطحی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اگر اقتدار پر قبضہ پالیں تب بھی کوئی مثبت کام نہیں کر سکتے۔ وہ جتنی تیزی سے جمع ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے دوبارہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھوٹے اتحاد کا تماشہ مسلمانوں میں بھی کثرت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر الکس کیرل (1943-1873) نے لکھا ہے کہ گیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جا سکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کر دیا جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ کمّیت کو کیفیت سے جدا کر دیا گیا:
Galileo, as is well known, distinguished the primary qualities of things, dimensions and weight, which are easily measurable, from their secondary qualities, form, colour, odour, which cannot be measured. The quantitative was separated from the qualitative. The quantitative, expressed in mathematical language, brought science to humanity. The qualitative was neglected. (Man, the Unknown, New York, 1939, p. 278)
قرآن میں سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (51:47)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے آسمان کو بنایا یا ہاتھ سے اور ہم
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues