Al-Risala · May 2021 · page 46

2 نومبر 1985

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶

صلاحیت کے افراد ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ اونچی صلاحیت کے افراد کوئی بڑا کام صرف اس وقت کر پاتے ہیں جب کہ وہ’’صبر‘‘ کی سطح پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا (32:24) ۔ یعنی اور ہم نے ان میں پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا۔ بڑا کام کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی چھوٹا کام کرنے پر اپنے آپ کو راضی کر سکے۔ زندگی کی تعمیر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو گم نامی میں جانا پڑتا ہے۔ اس کو کبھی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ اس کو ایسا کام کرنا پڑتا ہے جس میں اس پر بزدلی اور مصالحت کا الزام لگایا جائے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے اعلیٰ صلاحیت کے افراد پیدا ہوئے ۔ مگر ان میں سے ہر شخص کا یہ حال ہوا کہ اس کا اپنا شخصی گنبد تو کھڑا ہو گیا مگر اس کے ذریعہ سے ملت کا محل تعمیر نہ ہو سکا۔ اس کی واحد سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی حوصلہ مندی ان کے لیے’’ چھوٹا کام‘‘ کرنے میں مانع ہو گئی۔ ان میں سے ہر شخص ایسے کاموں کے پیچھے دوڑتا رہا جن کو بڑے بڑے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہو—ایسا عمل صرف شخصیتیں بناتا ہے، وہ قوموں کی تعمیر نہیں کرتا۔

2 نومبر 1985

میں اکثر سوچتا تھا کہ درخت اتنے زیادہ حسین کیوں معلوم ہوتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ درخت دوسروں کی زندگی میں دخل نہیں دیتے ۔ ہر درخت اپنے آپ میں جیتا ہے۔ ہر درخت اپنا رزق خود حاصل کرتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ دنیا سے جتنا لیتا ہے اس سے زیادہ وہ دنیا کو لوٹاتا ہے ۔ وہ دنیا سے ’’مٹی اور پانی‘‘ جیسی چیزیں لیتا ہے مگر وہ اس کو ہریالی اور پھول اور پھل کی صورت میں واپس کرتا ہے۔

انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان دوسروں کی زندگی میں مداخلت کر کے انھیں مشتعل کرتا ہے۔ وہ دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو کچھ نہ دے اور دوسروں سے ان کا سب کچھ لے لے۔ یہی فرق ہے جس نے درخت کو ہر ایک کے لیے پرکشش بنا دیا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page