2 نومبر 1985
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷
ہے۔ اور انسان کو ایسا بنا دیا ہے جس میں دوسروں کے لیے کوئی کشش نہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی تقریریں اور تحریریں پڑھیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا کہ وہی ہیں جنھوں نے ہندوستان کو آزادی دلائی۔ وہی ہیں جنھوں نے سردھڑ کی بازی لگا کر ہندوستان کو بیرونی سیاسی قبضہ سے آزاد کیا۔ مگر آزادی کے بعد لکھنے والوں نے ہندوستان کی جو تاریخ لکھی ہے اس میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ تاریخ آزادی ہند میں مسلمان صرف تاریخ کے فوٹ نوٹ (footnote of history) بن کر رہ گئے ہیں۔
بڑا کام وہ ہے جس کا اعتراف کرنے پر دوسرے لوگ مجبور ہو جائیں۔ جو کام ہمارے اپنے ذہنی سانچہ میں بڑا ہو، اور اس سے باہر جاتے ہی وہ چھوٹا ہو جائے وہ دراصل بڑا کام تھا ہی نہیں۔ 5 نومبر 1985 ہر انسان کے اوپر فطرت کا ایک چوکی دار مقرر ہے، جو اس کو برائی سے روکتا ہے۔ یہ حیا اور شرم کا جذبہ ہے۔ جس آدمی کے اندر حیا نہ رہے، اس کے اندر گویا برائی کا آخری روک باقی نہ رہا۔ حیا کے سلسلے میں دو روایتیں یہ ہیں :
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3483)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نبوت کے ذریعہ لوگوں کو جو بات ملی، ان میں سے ایک بات یہ ہے: جب تمھارے اندر شرم نہ رہے تو جو چاہے کرو۔
علقمہ بن علاثہ نے سے کہا: یا رَسُولَ اللهِ عِظْنِي۔ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- اسْتَحْ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى اسْتِحْيَاءَكَ مِنْ ذَوِي الهَيْبَةِ مِنْ قَوْمِكَ (ادب الدنيا والدين للماوردی، صفحہ 249)۔ یعنی اے خدا کے رسول! مجھے نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح تم اپنی قوم کی پر ہیبت شخصیتوں سے حیا کرتے ہو۔