Al-Risala · June 2021 · page 6

دین پر عمل

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۶

دین پر عمل

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : ہے:لَیَحْمِلَنَّ شِرَارَ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سُنَنِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 17135)۔ یعنی اس امت کے شرارت پسند لوگ پچھلے اہل کتاب کے طریقے کو اپنائیں گے ، جیسے ایک تیر دوسرے تیر کی طرح ہوتا ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، مسلمان اپنے بگاڑ کے زمانے میں وہی کریں گے ، جو یہود و نصاری نے اپنے بگاڑ کے زمانے میں کیا تھا۔ البتہ یہاں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا خدائی پیغام محفوظ نہیں۔ اس کے برعکس ، پیغمبر اسلام کا لایا ہوا قرآن پوری طرح محفوظ ہے، آپ کی سنت بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ اس طرح یہ امکان ہمیشہ باقی رہے گا کہ قرآن و سنت کے مطالعہ سے دین محمدی کو دوبارہ دریافت کیا جائے، اور اس کو اصل صورت میں اختیار کیا جائے۔ قرآن وسنت کا محفوظ ہونا، اس بات کی گارنٹی ہے کہ مجموعے کی سطح پر خواہ بگاڑ آجائے، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ امت میں ایسے افراد موجود رہیں گے، جو اصل دین کو دوبارہ دریافت کرکے مکمل طور پر اس کی پیروی کریں۔ موجودہ دور میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ میڈیا میں اپنا وقت گزاریں ۔ بے خوف دل کے ساتھ لوگوں سے بحثیں کریں۔ آپ کا سارا کنسرن میڈیا کی خبریں ہو، نہ کہ قرآن وحدیث میں بیان کردہ باتیں ۔ اس قسم کے لوگوں کا ذہنی شاکلہ (mindset) میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر بنے گا، نہ کہ قرآن اور سنت کی بنیاد پر۔ یہی وہ لوگ ہیں، جو پچھلی قوموں کی پیروی کرتے ہیں۔ دوسری شکل یہ ہے کہ تعاہد بالقرآن ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5033) آپ کی مصروفیت ہو، یعنی قرآن وحدیث میں غور وفکر آپ کے دن رات کا عمل بنا ہوا ہو۔ آپ قرآن کے معانی کو سمجھنے میں اپنے صبح و شام گزارتے ہوں۔ آپ قرآن وحدیث میں گہرا غور وفکر کرنے والے بنے ہوئے ہوں۔ اس طرح مطالعہ اور غور وفکر کے نتیجے میں آپ پر قرآن کے اور حدیث کے نئے نئے معانی کھلیں، اور پھر آپ ان کو اپنی زندگی میں اپنا رہنما بنالیں ۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں ربانی انسان ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page